چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 102

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۲ چشمه معرفت (۹۳) مگر یہ جسمانی اور روحانی تطابق قانون قدرت کا قرآن شریف نے دکھلا دیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضْلُ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ (الجزو نمبر ۳۰ سورة البروج ) یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے مینہ نازل ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھوٹ کر اناج نکالتی ہے۔ یہ کلام یعنی قرآن شریف حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے اور بے فائدہ نہیں یعنی اس کلام کی ایسی ہی ضرورت ثابت ہے جیسا کہ جسمانی نظام میں مینہ کی ضرورت ثابت ہے۔ اگر مینہ نہ ہو تو آخر کا ر کنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں اور دریا بھی اور پھر نہ پینے کے لئے پانی رہتا ہے اور نہ کھانے کے لئے اناج کیونکہ ہر ایک برکت زمین کی آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔ اس دلیل سے خدا نے ثابت کیا ہے کہ جیسا کہ پانی اور اناج کی ہمیشہ ضرورت ہے ایسا ہی خدا کی کلام اور اس کے تسلی دینے والے معجزات کی ہمیشہ ضرورت ہے کیونکہ محض گزشتہ قصوں سے تسلی نہیں ہو سکتی ۔ پس آریہ صاحبوں کو سمجھنا چاہیے کہ محض دید کے ورق چاٹنے سے نہ روحانی پیاس دور ہوسکتی ہے اور نہ وہ تسلی مل سکتی ہے جو خدا کے تازہ بتازہ منجزات سے ملتی ہے اور آیت ممدوحہ بالا میں جو خدا نے قسم کھائی پس جاننا چاہیے کہ خدا کی قسمیں انسان کی قسموں کی طرح نہیں ہیں بلکہ عادت اللہ اس طرح واقعہ ہوئی ہے کہ وہ قرآن شریف میں قسم کھا کر جسمانی نظام کو روحانی نظام کی تصدیق میں پیش کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قسم شہادت کی قائم مقام وضع کی گئی ہے۔ پس اس جگہ خدا کی کلام میں جسمانی امور کی قسم کھانے سے اشارہ یہ ہے کہ جو قسم کے بعد روحانی امور بیان کئے گئے ہیں جسمانی امور ان کی سچائی کے گواہ ہیں ۔ پس جس جگہ تم قرآن شریف میں اس طور کی قسمیں پاؤ گے ہر ایک جگہ ان قسموں سے یہی مراد ہے کہ خدا تعالیٰ اول جسمانی امور پیش کر کے ان امور کو روحانی امور کے لئے جو بعد میں لکھتا ہے بطور گواہ کے پیش کرتا ہے مگر افسوس ہمارے نادان اور اندھے مخالف اپنی جہالت سے قرآن شریف کی ان قسموں پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ در اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی پر حکمت کتاب ہے جس نے طب روحانی کے قواعد کلیہ کو یعنی دین کے اصول کو جو دراصل طب روحانی ہے طب جسمانی ل الطارق : ۱۲ تا ۱۵ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' الطارق “ہونا چاہیے۔(ناشر)