براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 387

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جنتی وہ بھی بلا توقف ظہور میں آتا ہو۔ یعنی ہر ایک شخص جو طیب اور طاہر مومنوں میں سے مرے وہ بھی بلا توقف بہشت میں داخل ہو جائے ۔ اور یہی بات حق ہے جیسا کہ قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی اس کی تشریح ہے علی اس جگہ بظاہر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ جب کہ ہر ایک مومن طیب اور طاہر جن کی گردن پر کوئی بوجھ گناہ اور معاصی کا نہیں بلا توقف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں حشر اجساد اور اس کے تمام لوازم متعلقہ سے انکار لازم آتا ہے ۔ کیونکہ جب کہ بہشت میں داخل ہو چکے تو پھر بموجب آیت وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ اُن کا بہشت سے نکلنا منع ہے۔ پس اس سے تمام کارخانه حشر اجساد و واقعات معاد کا باطل ہوا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عقیدہ جو مومنین مطہرین بلا توقف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں یہ میری طرف سے نہیں بلکہ یہی عقیدہ ہے جس کی قرآن شریف نے تعلیم دی ہے ۔ اور دوسری تعلیم جو قرآن شریف میں ہے جو حشر اجساد ہوگا اور مردے زندہ ہوں گے وہ بھی حق ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ یہ بہشت میں داخل ہونا صرف اجمالی رنگ میں ہے اور اس صورت میں جو مومنوں کو مرنے کے بعد بلا توقف اجسام دیئے جاتے ہیں وہ اجسام ابھی ناقص ہیں مگر حشر اجساد کا دن تجلی اعظم کا دن ہے اور اُس دن کامل اجسام ملیں گے اور بہشتیوں کا تعلق کسی حالت میں بہشت سے الگ نہیں ہوگا ۔ مِنْ وَ جُہ وہ بہشت میں ہوں گے اور مِن وَجہ خدا تعالیٰ کے سامنے آئیں گے ۔ کیا وہ شہداء جو سبز چڑیوں کی طرح بہشت میں پھل کھاتے ہیں کیا وہ چڑیاں بہشت سے باہر نکل کر خدا کے سامنے پیش نہیں ہوں گی ؟ فتدبر - منه جنت میں داخل ہونے کے لئے جسم ضروری ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ جسم عنصری ہو بلکہ ایسا جسم چاہیے کہ جو عصری نہ ہو کیونکہ جنت کے پھل وغیرہ بھی عنصری نہیں بلکہ وہ خلق جدید ہے اس لئے جسم بھی خلق جدید ہو گا جو پہلے جسم کے مغائر ہوگا مگر مومنوں کے لئے مرنے کے بعد جسم کا ملانا ضروری ہے اور اس پر نہ صرف جنتی کا لفظ دلالت کرتا ہے بلکہ معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی صرف روھیں نہیں دیکھیں بلکہ سب کے جسم دیکھے اور حضرت عیسی کا جسم ان سے الگ طور کا نہ تھا۔ منہ الحجر : ٤٩