براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 386

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مراد ہے جس کے بعد روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ جیسے مومنوں کی وفات ہوتی ہے۔ یہی محاورہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اور آیت مدوحہ بالا میں جو فرمایا ہے فادخلی فی عبادی جس کے معنے پہلے فقرہ کے ساتھ ملانے سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف واپس آجا اور پھر خدا کے بندوں میں داخل ہو جا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی شخص گذشتہ ارواح میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وفات نہ پالے۔ پس جب کہ بموجب نص قرآن شریف کے گذشتہ ارواح میں داخل ہونا بجز مر نے کے ممتنع اور محال ہے تو پھر کیونکر حضرت عیسیٰ بغیر فوت ہونے کے حضرت بیٹی کے پاس دوسرے آسمان میں جا بیٹھے۔ اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے و ادخلی جنتی جس کے معنے اس فقرہ کو تمام آیت کے ساتھ ملانے سے یہ ہوتے ہیں کہ اے نفس آرام یافتہ اپنے خدا کی طرف واپس آجا تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی اور میرے بندوں میں داخل ۲۱۳) ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا، پس جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشاہدہ سے جو معراج کی رات میں آپ کو ہوا یہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کی اس آیت کے مطابق نبیوں اور رسولوں کی روحیں جو دنیا سے گذر چکی ہیں وہ عالم ثانی میں ایک ایسی جماعت کی طرح ہیں جو بلا توقف پچھلی فوت ہونے والے پہلوں کے گروہ میں جاملتی ہیں اور ان میں داخل ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ آیت فادخلی فی عبادی کا منشاء ہے۔ پھر آخری فقرہ ان آیات کا یعنی و ادخلی جنتی بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ تمام عباداللہ بلا توقف بہشت میں داخل ہوں اور جیسا کہ آیت فی عبادی کا مفہوم کوئی مترقب امر نہیں جو دور دراز زمانہ کے بعد ظہور میں آوے بلکہ راستبازوں کے مرنے کے ساتھ ہی بلا توقف اُس کا ظہور ہوتا ہے یعنی ایک جماعت جو بعد میں مرتی ہے پہلوں میں بلا توقف جاملتی ہے۔ پس اسی طرح لازم آتا ہے کہ دوسرا فقرہ آیت کا یعنی وادخلی