براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 388
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم منجملہ ان کے ایک وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ یعنی کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو جا۔ ایسا ہی اور بہت سے مقامات ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ارواح طیبین مطہرین کے بجرد فوت ہونے کے بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی بہت سی احادیث سے یہی مطلب ثابت ہوتا ہے اور ارواح شہداء کا بہشت کے میوے کھانا یہ تو ایسی مشہور حدیثیں ہیں کہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کی نسبت یہ گمان مت کرو کہ وہ مُردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں خدا تعالیٰ سے اُن کو رزق ملتا ہے۔ اور کتب سابقہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے پس جب کہ ارواح طیبین مطہرین کا بہشت میں داخل ہونا ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ بہشت وہ مقام ہے جس میں انواع اقسام کی جسمانی نعماء بھی ہوں گی اور طرح طرح کے میوے ہوں گے اور بہشت میں داخل ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ نعمتیں کھاوے اس صورت میں صرف روح کا بہشت میں داخل ہونا بے معنے اور بے سود ہے۔ کیا وہ بہشت میں داخل ہو کر ایک محروم کی طرح بیٹھی رہے گی اور بہشت کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھائے گی ؟ پس آیت و ادخلی جنتی صاف بتلا رہی ہے کہ مومن کو مرنے کے بعد ایک جسم ملتا ہے کیا اسی وجہ سے تمام واضح رہے کہ عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح یعنی عیسی جسم عنصری کے ساتھ نہیں اٹھایا گیا بلکہ مرنے کے بعد اُس کو ایک جلالی جسم ملا تھا ۔ سو افسوس بلکہ سخت افسوس کہ فیج اعوج کے مسلمان جوقرونِ ثلاثہ کے بعد پیدا ہوئے نہ تو وہ اس مسئلہ کے بارے میں صحابہ رضی الله عنهم کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ تمام صحابہ کا اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ تمام گذشتہ انبیاء فوت ہو چکے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ بھی داخل ہیں۔ اور نہ یہ لوگ اس مسئلہ میں یہودیوں کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں کیونکہ یہودی نعوذ باللہ حضرت عیسی کو عنتی ٹھہرا کر صرف ان کے رفع روحانی کے منکر ہیں جو بعد موت يس : ۲۷ آل عمران : ۱۷۰