براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 719 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 719

صفحہ ۳۷۱۔اگر وہ اُس محبوب تک پہنچنے کا راستہ کھلا نہیں پاتے تو اُس کے غم میں اپنی جان تہ وبالا کر دیتے ہیں۔وہ یار کے رنگ میں رنگین ہوتے ہیں اور شہرت سے انہیں عار آتی ہے۔وہ اپنی لذت درد میں پاتے ہیں اور روئے زرد میں حسن دیکھتے ہیں۔تو جو گدھے کی طرح کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے۔اُن پہلوانوں کی ہمت کو کہاں جان سکتا ہے۔غم اور درد کی باتیں کرنی آسان ہیں مگر ان کا مزا وہی جانتا ہے جسے غم پیش آئیں۔خدا کی رحمت ہو اُس جان پر جس نے محبوب کی خاطر خودی چھوڑ دی۔دل میں یار کا ٹھکانا بنا لیا اور ہواؤ ہوس سے سینکڑوں کوس دور چلا گیا۔خودی سے دور ہو گیا اور خدا کو پا لیا اپنے تئیں کھو کر رہنما کے ہاتھ کو حاصل کر لیا۔ُ تو بھلا کیا پائے گا کہ اس راستہ ہی سے غافل ہے۔اور خدا کے جلال سے بھی واقف نہیں۔تیرے سارے کام عقل خام سے ہی وابستہ رہے اور تیری ساری کوششیں ناکام رہیں۔طوطے کی طرح بس یہی بات یاد ہے کہ انسان عاقل ہے اور آزاد ہے۔اے وہ جو کہ زرو مال کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے افسوس دین کے کام میں اس قدر فرود گذاشت۔اپنے دل کا رُخ دین کی طرف کر دے اور آخرت کے فکر کو سب سے مقدم فکر بنا لے۔تیرا ہر حال میں قیاس پر ہی انحصار رکھنا تیری بیوقوفی پر ایک دلیل ہے۔جب تک اعلان کے طور پر کوئی حکم نہ پہنچے تو کیوں کوئی ایسے حکم کو بجا لائے۔جب تک حاکم کا حکم ظاہر نہ ہو تب تک تو حاکم کی اطاعت کس طرح کر سکتا ہے۔جب تک کوئی حق کی طرف سے مامور نہ ہو تو (لوگوں کے) کفر اور ایمان کیوں کر ظاہر ہوں۔جب تک اس محبوب کی طرف سے اشارہ نہ ہو تو عا شق زار کے ہاتھوں سے کیا کام ہو سکتا ہے۔خدا کے سرکش اور اُس کے مطیع میں جو فرق ہے بغیر اُس کے حکم کے کس طرح ظاہر ہو سکتا ہے۔تعمیل حکم کی شرط چونکہ حکم کا موجود ہونا ہے اس لئے اے دیوانے! پہلے خود اس حکم کو ڈھونڈھ۔ورنہ اس غلط دعوے کو ترک کر کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت چل رہا ہوں