براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 720 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 720

۔اپنی مرضی سے حکم گھڑ لینا اے نادان یہ خدا کا حکم نہیں ہو سکتا۔عرف عام اور عقل دونوں کی رو سے یہ جائز نہیں کہ اپنا ظن خدا کا حکم بن جائے صفحہ ۳۷۲۔اُس کا حکم تو وہ ہے جو خود اُس نے دیا اور جب وہ حکم دے دے تو فوراً توجہ کر۔کیونکہ اسی بات سے خدا کی وحی کا ثبوت ملتا ہے اسی دلیل سے خود اس کی ضرورت بھی ثابت ہوتی ہے۔اگر تجھے دینی معرفت نصیب ہو تو ُتو گمان میں اپنی ہلاکت دیکھے۔عقل، فکر اور قیاس سے دیکھ تو سہی کہ عقل کی بنیاد مضبوط نہیں ہے۔جب تک دوسرا اس کا رفیق نہ بنے تب تک اس کو یقین کی راہ کی خبر نہیں ملتی۔جب تک تو کسی جگہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتا یا کسی دیکھنے والے سے اس کی خبر نہیں پا لیتا۔تب تک خود عقل تجھے ہرگز نہیں بتاتی کہ فلاں مکان کے یہ یہ نشان ہیں۔پھر کیوں کر ممکن ہے کہ عالم آخرت کے بارے میں وہ عقل دم مار سکے کہ وہ ملک اور مقامات ایسے ہیں۔یہ کیسی بیوقوفی اور گمراہی کی بات ہے کہ تو جاہل ہو کر علم کی لاف مارتا ہے۔تو محض قیاس سے ایسی راہ پر کس طرح چل سکتا ہے جسے تو نے عمر بھر میں کبھی بھی نہیں دیکھا۔تجھے عالم آخرت کی خبر کیوں کر ہو گئی کیا تیری ماں نے اسے دیکھا تھا یا تیرے باپ نے۔اگر کسی نے نہیں دیکھا تو پھر تجھے کیونکر معلوم ہوا۔اے کمینے ! ننگا ہوتے ہوئے مٹک کر نہ چل۔تو جو انبیاء کا منکر ہے یہ بھی سب تیرا اندھا پن اور تکبر ہے۔انسانوں کی فطرت پر ایک نظر ڈال کہ وہ سب برابر قابلیت نہیں رکھتے۔ہر شخص دوسرے شخص سے مختلف ہے کوئی نیکی میں بڑھ گیا کوئی بدی میں۔پس جب ایک زیادہ اور دوسرا کم ہے تو اسی طرح فیض خداوندی کے قبول کرنے میں بھی (ان کے مدارج ہیں )۔اب صدق وصفا کے ساتھ خود دیکھ لے کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔اندھیری رات ہے اور خوف بہت زیادہ ہے خودروی کی وجہ سے کہیں اپنا سر نہ دے دینا۔جب تو دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا پھر غیب خداوندی کو کیوں کر جان سکتا ہے