براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 718
۔ُمردوں کو تو گود میں لیتا ہے پر زندہ محبوب سے بیزار ہے۔کیا تو نے کوئی ایسا عاشق سنا ہے جو یار سے بے پروا ہو عشق اور صبر دونوں کا جمع ہونا مشکل ہے۔جو دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے تو پھر آنکھ اس کے دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی۔تو نے اپنا دل دوسروں کو دے رکھا ہے اور یار کی طرف سے بالکل لاپروا ہو گیا ہے۔کیا عاشق زار کا حال ایسا ہی ہوا کرتا ہے؟ اے مردار! کیا یہی دلبر کی قدر ہے۔عاشقوں میں تو صدق کے آثار پائے جاتے ہیں اے سیہ دل بھلا تجھے عشق سے کیا کام۔جب تک تیری خودی تجھ سے دور نہ ہو گی تب تک شرک کا بیج تیرے دل میں سے نہیں نکلے گا۔تیری کوشش کا قدم اونچا نہیں پڑے گا جب تک تیرے دل کا دھواں سر تک نہ پہنچ جائے۔یار اُس وقت ظاہر ہو گا جب تو اپنے آپ سے پوری طرح غائب ہو جائے۔جب تک تو نہیں جلے گا سوزوغم سے نجات نہیں پائے گا اور جب تک تو مرے گا نہیں موت سے بھی رہائی نہیں پائے گا۔وہ جان وتن کیسے بیہودہ ہیں جو) عشق میں (نہیں جلتے ایسے دل کو آگ لگا دے جو نہیں جلتا۔اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کر دے اگر وہ خدا سے آبادنہیں ہوتی۔اپنے جسم سے اپنے پیر کو کاٹ ڈال اگر وہ صداقت کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔کوئی چیز بھی اُس بے مثل ذات کی مانندنہیں وہ دل تباہ ہو جائے جو اس کی محبت میں خون نہیں ہوتا۔سارے جہان کے خزانے اُس محبوب پر قربان ہیں اور محبوب کے پیروں کی خاک سینکڑوں خزانوں سے بہتر ہے۔جو کچھ اُس کے ہاتھ سے پہنچے وہی اچھا ہے اُس کا ایک کانٹا ہزار گلزار سے بہتر ہے۔اُس کی خاطر ذلت برداشت کرنا عزت سے بہتر ہے اُس کی خاطر غربت اختیار کرنا دولتمندی سے بہتر ہے۔اُس کی خاطر مرنا ہمیشہ کی زندگی ہے۔ان تکلیفوں پر سینکڑوں لذتیں قربان ہیں۔اے وہ شخص ! جو دلبر کے کوچے میں سے گزر رہا ہے تو باوفا رہ خواہ جان چلی جائے۔وہ راستباز جو یار کے طالب ہیں وہ تو دلدار کے لئے جان قربان کر دیتے ہیں