براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 715
۔بندہ کا منصب خود رائی کرنا نہیں اور نہ آپ ہی حکومت کرنے بیٹھ جانا ہے۔جو شخص حکم پورا کرنے میں مصروف ہے اسی کو مزدوری ملے گی اور وہی مقبول ہے۔اور جو شخص بغیر حکم کے خود سے کام کرتا ہے اس کی مزدوری کبھی واجب نہیں ہوتی۔ہم تو ضعیف ہیں اور خاک پر گرے ہوئے۔ہم خود خدائے قدوس کا راز کس طرح جان سکتے ہیں۔ہم سب بے حقیقت ہیں اور وہی کامل وجود ہے افسوس! ہمارا علم اس کے علم کی طرح کیونکر ہو سکتا ہے۔وہ بے مثل ذات جس کا نام خدا ہے اس تک عقل کا خیال کیونکر پہنچ سکتا ہے۔وہ جو خدا کے پاس سے آتا ہے وہی اُس دلستاں کے راز لوگوں کو پہنچاتا ہے۔جو بات تیرے دل میں پوشیدہ ہے اسے دوسرا انسان تیری طرح کیونکر جان سکتا ہے۔پھر تو اُس بات کو جو خدا کے خیال میں ہے اے بے وفا! کیونکر اس کی طرح جان سکتا ہے۔جس نے آنکھ پیدا کی وہی نور بخشتا ہے جس نے دل دیاوہی سرور عنایت کرتا ہے۔ظاہری آنکھ کو دیکھ کہ کس طرح اپنی مہربانی سے خالق نے اس کو آفتاب عطا کیا۔اور زمانے کی بھلائی کے لئے کبھی اُس آفتاب کو ظاہر کیا اور کبھی پوشیدہ کر دیا۔یہی حال باطنی آنکھ کا ہے اُس کا آفتاب اُس بے نظیر خدا کا کلام ہے۔اے انسان ہوش کر کہ انسانی عقل کی بینائی میں ہزاروں خطرات ہیں۔سرکشی شیطان کا طریقہ ہے اور انسانی فطرت کے برخلاف ہے۔جب تک اس کا فضل تیری راہ کو نہ کھولے تو کتنی ہی بے فائدہ کوششیں کرے سب بے کار ہیں۔باریک رازوں میں قیاس کی گنجائش نہیں اونٹ سوئی کے ناکے میں کیونکر گھس سکتا صفحہ ۳۶۸۔تو اُس کوچہ سے بے خبر ہے تو اُس چہرے کے حسن کو نہیں جانتا۔پھر اُس کے متعلق لوگوں کو کیا خبر دیتا ہے جس ہلال کو تو نے دیکھا نہیں اُس کا نشان کیا بتاتا ہے۔دوست کی باتیں کرنا اور سینہ بجھا ہوا یہ تو ایسی بات ہے جیسے مردہ پر زندہ کا لباس۔خواہ ریت (کی عمارت) کو تو کتنی ہی اونچی جگہ لے جائے ہوا کی ذرا سی حرکت اسے وہاں سے گرا دے گی