براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 714
۔اگر تیرے بدن میں سے دو سو جانیں بھی نکل جائیں تب بھی ممکن نہیں کہ شک اور ظن دور ہو۔دلی تسکین کا علاج تو خدا کا کلام ہے خدا کے جام کے سوا تو مست کب ہو سکتا ہے۔اس کا راستہ غیر کے لئے مسدود ہے اور آسمان کے سارے دروازے (غیر کے واسطے) بند ہیں۔جب تک غیب سے کوئی مشعل پیدا نہ ہو تب تک جہالت کی اندھیری رات سے کوئی رہائی نہیں پاتا۔اس جگہ تو تکبر سے بچنا چاہیے مگر ُتو عقل اور قیاس پر مغرور ہے۔یہ کیسی غفلت ہے کہ تو اپنے اس طریق پر خوش ہے اور کسی وقت بھی خدا سے نہیں ڈرتا۔جااور یار سے ہی اُس کا وصل طلب کر اور ہرگز اپنی طاقت پر بھروسہ نہ کر۔جب تک نیاز کے ساتھ تیرا سر نیچا نہ ہو گا تب تک تیرے نفس کے حجاب دور نہ ہوں گے۔جب تک تیرے سارے پرو بال نہ جھڑ جائیں گے تب تک اس جگہ پرواز کرنا ناممکن ہے۔ناتوانی اس جگہ کی طاقت ہے پس ایسی قوت پیدا کر اور آجا۔دلدار کے منہ پر کوئی نقاب نہیں تُواپنے اوپر سے انانیت کا پردہ اٹھا دے۔ازلی خوش قسمتی جس شخص کی مددگار ہو جاتی ہے تو اُس کا کام اپنے معاملہ میں خاکساری ہو جاتا ہے۔وہی شخص بے مثل خدا کی حضوری میں آجاتا ہے جو تکبر کے تنگ کوچہ سے باہر نکل جاتا ہے۔خودروی سے حق شناسی حاصل نہیں ہوتی بلکہ خودروی تو خودروی کو ہی زیادہ کرتی ہے۔خودی سے اپنا حال تباہ نہ کر ُتو تو چمگادڑ ہے آفتاب کا کام اختیار نہ کر صفحہ ۳۶۷۔جب تک بشر تکبر سے بھرا ہوتا ہے اُس کا دل یار سے خالی ہوتا ہے۔جس کسی کا انکسار پورے کمال تک پہنچ جاتا ہے اس وقت عشق کی شورش کا وقت آپہنچتا ہے۔اے وہ شخص کہ تیری آنکھ پر تکبر نے پردہ ڈال رکھا ہے میں کیا کروں کہ تیری آنکھ کھل جائے۔اگر تیرے دل میں سچی طلب ہے تو بے ادبی سے خود روی نہ کر۔خدا کے راستے کا بھید خدا سے ہی طلب کر جب تو خدا نہیں ہے تو اپنی جگہ پر آجا۔ہم تو بندے ہیں اور بندہ کو مناسب ہے کہ جو کچھ آقا فرمائے وہ کرے