براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 716 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 716

۔ہمارا ایک خدا ہے کہ ہر فیضان جو اس کی طرف سے ہے ہمارے جان وتن کا محافظ ہوتا ہے۔وہ خدا جس نے جہان کو پیدا کیا وہی ہر مخلوق کا نگہبان ہے۔مخلوقات کے لئے جو کچھ بھی درکار ہے مثلاً لباس، خوراک اور نجات کا راستہ۔ان سب کو مہربانی اور احسان سے وہ خود مہیا کرتا ہے کیونکہ وہ کریم قادر اور محبت کرنے والا ہے۔جنگل میں کھیتوں کی طرف آنکھیں کھول کر دیکھ کہ خوشہ کے ساتھ خوشہ ناز کے ساتھ کھڑا ہے۔یہ سب ہمارے لئے ہے کہ ہم اسے کھائیں اور بھوک کا درد اور تکلیف نہ اٹھائیں۔وہ جس نے چند روزہ زندگی کے لئے اس قدر مدد کی ہے۔وہ آخرت کے لئے جو ہمیشہ کا گھر ہے کیوں (امداد)نہ کرتا، عقل اور شرم وحیا سے اس بات پر غور کر۔ایسی عقل پرپتھر پڑیں جو سچائی سے سو کوس دور پڑی ہے۔اگر تو اپنے آپ سے ہی پوچھے کہ اس درگاہ میں تیرا گزر کیوں کر ہو۔تو خود تیرے اندر سے ہی یہ آواز آئے گی کہ خدائے بے نظیر ہی کی تائید سے یہ ہو سکتا ہے۔کسی شخص کی عقل وفہم میں یہ بات نہیں آسکتی کہ ہاتھی کا کام ایک مکھی سے ہو۔پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ مخلوقات کا ایک ذرہ آپ ہی اپنے زور وطاقت سے خدا کا کام کرے۔خدائے قدوس کی شان کو سمجھ اور اس کی ایسی توہین سے خوف کھا۔تو اپنے تئیں اس کا شریک بناتا ہے اور اس کے بالمقابل برابری کا دعویٰ کرتا ہے۔اے جانوروں سے بھی گئے گزرے انسان، یہ کیا عقل ہے؟ تیری سمجھ پر یہ کیسے پردے پڑ گئے۔اگر کوئی تجھے تحقیر سے یوں کہے کہ اس شہر میں تیرے جیسے ہزاروں ہیں۔اور تو عقل میں کسی سے بڑھ کر نہیں ہے اور ادنیٰ ادنیٰ انسان بھی تیرے برابر ہیں صفحہ ۳۶۹۔ُتو (یہ بات سن کر) جوش میں آجاتا اور لڑنے کو تیار ہو جاتا ہے تیرا جی چاہتا ہے کہ اسے قتل کر دے۔پس جو بات ُتو اپنے لئے جائز نہیں رکھتا وہی خدا کے لئے کیوں کر پسند کرتا ہے۔تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ سب کاموں کا کارساز گونگا اور بات کرنے سے عاجز ہو