براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 289

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۸۷ براہین احمدیہ حصہ سوم پہلی وجہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ عبارت میں اس قدر فصاحت اور موزونیت اور لطافت (۲۵۹) اور دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔ اور ﴿۲۵۸ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر صرف انہیں چند لوگوں کو سزادی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہریک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح یا کر سب کو لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہا اور اُسی عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے۔ ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا اور حقانی صبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ جو ایک زمانہ دراز تک آنجناب نے ان کی سخت سخت ایذاؤں پر کامل ثبوتوں سے اور کامل شہادتوں سے روشن ہو چکا ہے۔ وہ صرف مونہہ کی فضول اور بیہودہ باتوں سے ٹوٹ نہیں سکتا۔ فتدبر و تفکر ۔ صورت پنجم الہام کی وہ ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سے آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذت پہنچتی ہے۔ انسان کسی قدر استغراق میں ہوتا ہے کہ یکدفعہ یہ آواز آ جاتی ہے اور آواز سن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی ۔ اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔ اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملہ میں نہایت متفکر اور مغموم ہوتا ہے یا کسی بدخبری کے سننے سے کہ جو اصل میں محض دروغ تھی ۔ کوئی سخت اندیشہ اس کو دامنگیر ہو جاتا ہے مگر صورت دوم کی طرح اس میں مکرر دعاؤں پر اس آواز کا صادر ہونا مشہور نہیں ہوا بلکہ ایک ہی دفعہ اسی وقت کہ جب خدائے تعالی چاہتا ہے۔ کوئی فرشتہ غیب سے نا گہانی طور پر