براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 288
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۸۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۵۸ قرآن شریف با وجود اس ایجاز اور اس احاطہ حق اور حکمت کے جس کا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر نسبت دلوں میں گزرسکتا ہے یعنے یہ کہ اخلاق حضرت مسیح علیہ السلام دونوں قسم مذکورہ بالا پر علی وجہ الکمال ثابت نہیں ہو سکتے بلکہ ایک قسم کے رو سے بھی ثابت نہیں ہیں ۔ کیونکہ مسیح نے جو زمانہ مصیبتوں میں صبر کیا ۔ تو کمالیت اور صحت اس صبر کی تب بہ پایه صداقت پہنچ سکتی تھی کہ جب مسیح اپنے تکلیف دہندوں پر اقتدار اور غلبہ پا کر اپنے موذیوں کے گناہ ولی صفائی سے بخش دیتا جیسا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کوئی اوتار آنے والا ہے جس سے دھرم کی ترقی ہوگی ۔ تو ایسی خواہیں ان کی اگر بعض اوقات کچی ہوں ۔ تو ان کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ اس مسیح اور اس اوتار سے مراد کوئی محمد می شخص ہوتا ہے کہ جو دین کی ترقی اور اصلاح کے لئے اپنے وقت پر ظہور کرتا ہے اور چونکہ وہ اپنی نورانیت میں تمام مقدسوں کا وارث ہوتا ہے اس لئے مشتبہ الخیال لوگوں کی قوت متخیلہ میں ایسی صورت پر نظر آتا ہے یعنے ان کو وہ ایک ایسے شخص کی صورت میں متصور ہو کر دکھائی دیتا ہے جس کو وہ اپنے اعتقاد کے رو سے بڑا مقدس اور کامل اور راستی کا پیشوا اور اپنا ہادی خیال کرتے ہیں ۔ غرض عیسائیوں اور ہندوؤں کی خوا ہیں اکثر اوقات بے اصل اور سراسر دروغ یا مشتبہ نکلتی ہیں ۔ پس بنظران تمام وجوہات کے یہ بات بخوبی بدیہی طور پر ثابت ہے کہ رویا صادقہ کا کثرت سے آنا، اور کامل طور پر آنا اور مہمات عظیمہ میں آنا اور انکشاف نام سے آنا ۔ یہ خاصہ امت محمدیہ کا ہے۔ اس میں کسی دوسرے فرقہ کو مشارکت نہیں ۔ اور عدم مشارکت کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمام لوگ صراط مستقیم سے دور اور مجبور ہیں اور ان کے خیالات دنیا پرستی اور مخلوق پرستی اور نفس پرستی میں لگے ہوئے ہیں اور راستبازوں کے نور سے کہ جو خدائے تعالی کی طرف سے ان کو ملتا ہے بکلی بے بہرہ اور بے نصیب ہیں ۔ یہ صرف دعوی نہیں ۔ یہ صرف زبان کی بات نہیں ۔ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے جس سے کوئی عقلمند اگر انکار کرے۔ تو اس پر لازم ہے کہ مقابلہ کر کے دکھلاوے۔ کیونکہ جو امر