براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 290

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۸۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۵۹ ۲۶۰ اور نرمی اور آب و تاب رکھتا ہے کہ اگر کسی سرگرم نکتہ چین اور سخت مخالف کیا تھا۔ آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہو گیا اور چونکہ فطرتا یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد زمانہ آزار کشی کے اپنے آزارو ہندہ پر قدرت انتظام پا کر اس کے گناہ کو بخش دے۔ اس وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور علم اور برداشت کے متعلق تھے ۔ بخوبی ثابت نہ ہوئے اور یہ امر اچھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری تھا۔ کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا تا دیکھا جا تا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا۔ برخلاف اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ صد ہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے اور امتحان کئے گئے اور ان کی صداقت آفتاب کی طرح آواز کرتا ہے بر خلاف صورت دوم کے کہ اس میں اکثر کامل دعاؤں پر حضرت احدیت کی طرف سے جواب صادر ہونا مشہور ہوا ہے۔ اور خواہ سو مرتبہ دعا اور سوال کرنے کا اتفاق ہو ۔ اس کا جواب سو مرتبہ ہی حضرت فیاض مطلق کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جیسا کہ متواتر تجر بہ خود اس خاکسار کا اس بات کا شاہد ہے۔ اس قسم کے الہام میں بھی ایک بزرگ پیشگوئی اس عاجز کو یاد ہے جس سے اس خاکسار نے مشرف من اللہ ہو کر ایک قادیان کے آریہ سماج کے ممبر کو کہ جواب بھی اس جگہ صحیح و سالم موجود ہے۔ پیشگوئی کے پورے ہونے پر ملزم ولا جواب کیا تھا۔ یہ ایسی بعید از قیاس اور ظاہراً بكلى محال وممتنع الوقوع معلوم ہوتی تھی جس کو سن کر اس آریہ نے سخت انکار کیا اور اس بات پر ضد کر بیٹھا کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ ایسی بات دور از قیاس واقعہ ہو جائے۔ چنانچہ بالآخر وہ بات بعینہ اسی طور پر ظہور میں آئی جیسی پہلے کہی گئی تھی اور یہ پیشگوئی نہ صرف اس آریہ کو بتلائی گئی تھی بلکہ اور کئی لوگوں کو جتلائی گئی تھی کہ جواب تک موجود ہیں اور کسی کو انکار کرنے کی جگہ باقی نہیں۔ چونکہ یہ پیشگوئی ایک طول طویل واقعہ پر مشتمل ہے۔ لہذا بالفعل اس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔ بہر حال سمجھنا چاہئے کہ الہام ایک واقعی اور یقینی صداقت ہے جس کا مقدس اور پاک چشمہ دین اسلام ہے۔ اور خدا جو قدیم سے صادقوں کا رفیق ہے۔ دوسروں پر یہ نورانی دروازہ ہر گز نہیں کھولتا اور اپنی خاص نعمت غیر کو ہرگز نہیں دیتا۔ اور کیونکر دے۔ کیا ممکن ہے کہ جو شخص اپنے گھر کے تمام دروازے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر