براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 287
روحانی خزائن جلد 1 ۲۸۵ براہین احمدیہ حصہ سوم بے نظیری ہے کہ جو ہر ایک طالب حق کو آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ یعنے یہ کہ ۲۵۷۶ 11 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا سب سے اول قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں اور ایسی ترتیب سے آئیں ۔ کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن ہو گئے اور مضمون إنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِیم کا یہ پایہ ثابت پہنچ گیا ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علی وجہ الکمال ثابت ہو نا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے کیونکہ ۲۵۷ کے آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔ پس اس تحقیق سے یہ اعتراض بھی بالکل دور ہو گیا کہ جو صحیح کے اخلاق کی گزرا ہوگا۔ ہم نے سنا تھا کہ ایک پادری صاحب نے یہ پیشگوئی کی ہے کہ اب تین برس کے اندر اندر حضرت مسیح آسمان سے پادریوں کی مدد کے لئے اتر آئیں گے۔ پھر شاید ایک مرتبہ ہم نے منشور محمدی یا کسی اور اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک بنگلور کے پادری نے بھی کچھ (۲۵۷) ایسا ہی وعدہ کیا تھا ۔ بہر حال مدت ہوئی کہ وہ تین برس کا وعدہ گزر بھی گیا مگر آج تک میسیج کو آسمان سے اتر تا کسی نے نہیں دیکھا اور یہ پیشگوئی پادریوں کی ایسی ہی جھوٹی ہوئی جیسا بعض نجومی نومبر ۸۱ ء کے مہینے میں قیامت کا قائم ہونا سمجھ بیٹھے تھے ۔ اور واضح رہے کہ ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ کسی پادری کو مسیح کے نازل ہونے کے بارے میں خواب آئی ہو مگر ہمارا یہ منشاء ہے کہ پادریوں کی خواہیں باعث کفر اور عداوت حضرت خاتم الانبیاء کے اکثر دروغ بے فروغ نکلتی ہیں اور اگر کوئی خواب شاذ و نادر کسی قدر بچی ہو تو وہ مشتبہ اور مبہم ہوتی ہے۔ پس اگر مسیح کے بارہ میں کہ جو ان کو خواب آئی ۔ اس کو اسی قسم دوم میں داخل کریں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مسیح سے مراد عالم رویا میں کوئی کامل فرد امت محمدیہ کا ہے کیونکہ قدیم سے یہ تجربہ ہوتا چلا آیا ہے کہ جب کوئی عیسائی اپنی خواب دیکھتا ہے کہ اب صحیح آنے والا ہے کہ جو دین کو تازہ کرے گا۔ یا اگر کوئی ہندو دیکھتا ہے کہ اب القلم: ۵