براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 166
روحانی خزائن جلد ۱ ، حاشیه نمبراا ۱۶۴ براہین احمدیہ حصہ سوم بہت سی کلام انسان کی دنیا میں ایسی موجود ہیں جن کی مثل آج تک دوسرا کہ خدا موجود ہے۔ وہی ہے جس سے پرستاروں کو پرستش کی لذت آتی ہے۔ ایمانداروں کو خدا کے وجود اور عالم آخرت پر تسلی ملتی ہے۔ وہی ہے جس سے کروڑہا عارفوں نے بڑی استقامت اور جوش محبت الہیہ سے اس مسافر خانے کو چھوڑا ۔ وہی ہے جس کی صداقت پر ہزار ہا شہیدوں نے اپنے خون سے مہریں کر دیں۔ ہاں وہی ہے جس کی قوت جاذبہ سے بادشاہوں نے فقر کا جامہ پہن لیا۔ بڑے بڑے مالداروں نے دولتمندی پر درویشی اختیار کر لی۔ اسی کی برکت سے لاکھوں اُمّی اور ناخواندہ اور بوڑھی عورتوں نے بڑے پر جوش ایمان سے کوچ کیا ۔ وہی ایک کشتی ہے جس نے بارہا یہ کام کر دکھایا کہ بے شمار لوگوں کو ورطہ مخلوق پرستی اور بد گمانی سے نکال کر ساحل توحید اور یقین کامل تک پہنچا دیا ۔ وہی آخری دم کا یار اور نازک وقت کا مددگار ہے۔ لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے۔ وہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ ۔ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے منکر بنایا؟ کس نے جالینوس کو روحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارے میں شک میں ڈال دیا ؟ کس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری رکھا ؟ کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بت پرستی کرائی ؟ کس نے مورتوں کے آگے مرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا ؟ کیا یہی معقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا۔ اور یہ شبہ پیش کرنا کہ بہت سے لوگ الہام کے تابع ہو کر بھی مشرک بن گئے ۔ نئے نئے خدا بنا لئے ۔ درست نہیں ۔ کیونکہ یہ خدا کے بچے الہام کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا قصور ہے جنہوں نے بیچ کے ساتھ جھوٹ ملا دیا اور خدا پرستی پر ہوا پرستی کو اختیار کر لیا ۔ پھر بھی الہام الہی ان کے تدارک سے غافل نہیں رہا۔ ان کو فراموش نہیں کیا بلکہ جن جن باتوں میں وہ حق سے دور پڑ گئے ۔ دوسرے الہام نے ان باتوں کی اصلاح کی اور اگر یہ کہو کہ عقل کا بگاڑ بھی نیم عاقلوں کا قصور ہے نہ عقل کامل کا قصور تو یہ قول ۱۵۸