براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 165
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۶۳ براہین احمدیہ حصہ سوم حجت ان کا ایک وہم جو ان کے دلوں کو پکڑتا ہے دور کرنا قرین مصلحت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو باعث کو نہ اندیشی یہ خیال فاسد دل میں متمکن ہے کہ بقیه حاشیه نمبر ا ا آن یکے کام یافته به تمام عارت آید ز عالم اسرار دیگرے سوختہ بفکرت کام خود ز خود دم زنی زہے پندار ہمہ کار تو نا تمام افتاد وه چه کارت بعقل خام افتاد سواے بھائیو پر ہمو سماج والو!! جب کہ آپ لوگوں کو خدا وند کریم نے دیکھنے بھالنے کے لئے آنکھیں دی ہیں تو پھر تم آپ ہی ذرہ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ ضرورت الہام کی ثابت ہے یا نہیں اور زیادہ تر تفصیل اس کی بحوالہ دلائل عقلیہ قرآن شریف کے اپنے موقعہ پر مندرج ہے۔ وہاں پڑھ لو۔ پھر اگر خدا سے خوف کر کے سچا راستہ قبول کر لو اور منصب رہنمائی کا خدا ہی کے لئے رہنے دو تو یہ بڑی خوش قسمتی کی نشانی ہے۔ ورنہ اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو ان دلائل کو مدلل بیان سے تو ڑ کر دکھلاؤ۔ لیکن سودائیوں کی چال تو مت چلو کہ جو کسی کی سنتے نہیں اور اپنی ہی کی جاتے ہیں۔ کیا تعجب کریں یا نہ کریں کہ تم لوگ بات بات میں کٹتے جاتے ہو اور قدم قدم میں رکے جاتے ہو۔ پھر نہ جانے کہ کس بلا کے پر دے ہیں کہ وہ اٹھتے ہی نہیں۔ کیسے دل ہیں کہ سمجھتے ہی نہیں ۔ عقل کی کسوٹی کس طاق میں رکھ کر بھول گئے کہ کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا خیال کرنے لگے۔ خیال پرستی کرنا کس کو نہیں آتا۔ یہ تم کونسا نیا تحفہ لائے کہ جس پر بغلیں بجاتے ہو۔ کوئی باعث نہیں کھلتا کہ کیوں تمہارے دل کے کواڑ نہیں کھلتے ۔ کیوں تمہاری آنکھیں دیکھنے سے عاجز ہورہی ہیں ۔ عقل نے تم سے کیسی بے وفائی کی کہ تم جیسے پوجاریوں سے دور بھاگ (۱۵۷) گئی ۔ حضرات !! تم خوب سوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن نہ تو حید خالص پر قائم ہونا ممکن۔ نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حیز امکان میں داخل ہے۔ وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اور تمام دنیا هست هست کر کے اس کو پکار رہی ہے۔ وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیا