براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 167
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۶۵ براہین احمدیہ حصہ سوم کلام نہیں ہوا مگر وہ خدا کی کلام تسلیم نہیں ہو سکتی۔ سو واضح ہو کہ یہ وہم قلت تفکر اور صحیح نہیں ۔ ظاہر ہے کہ عقل اپنے اطلاق اور کلیت کے مرتبہ میں تو کوئی کارروائی نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ اس مرتبہ میں وہ ایک کلی ہے اور کلی کا وجود بجز وجود افراد متحقق نہیں ہو سکتا بلکہ کیفیت (۱۵۸) اس کی بذریعہ اس کے افراد کے معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایسے فرد کامل کو کون دکھا سکتا ہے جس نے فقط عقل کا تابعدار ہو کر اپنے خود تراشیدہ عقائد میں کبھی غلطی نہیں کی ۔ الہیات کے بیان میں کبھی ٹھو کر نہیں کھائی ۔ ایسا عاقل کہاں ہے جس کا یقین وجود صانع عالم اور جزا سزا وغیرہ امور معاد پر ہے کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہو ۔ جس کی توحید میں شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہی ہو ۔ جس کے جذبات نفسانیہ پر رجوع الی اللہ غالب آ گیا ہو ۔ اور ہم ابھی اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ خود حکماء کا اقرار ہے کہ انسان مجرد عقل کے ذریعہ سے الہیات کے مسائل میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ صرف ایک مشتبہ اور مظنون رائے کا مالک ہوتا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی کا علم مشتبہ اور مظنون ہے اور مرتبہ یقین سے منزل اور فروتر ۔ جب تک غلطی کرنے سے اس کو امن حاصل نہیں جیسے اندھے کو راستہ بھولنے سے۔ اور یہ خیال کرنا کہ مجر و عقل سے غلطیاں تو ہو جاتی ہیں پر وہ مکر رسہ کر ر نظر سے رفع بھی ہو جاتی ہیں ۔ یہ بھی تمہاری عجیب عقل کی ایک غلطی ہی ہے جو اب تک رفع نہیں ہوئی ۔ کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ عقل انسانی سے امور ماوراء الحسوسات میں بوجہ نقصان مرتبہ بصیرت کامل کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں غلطی ہو جانا ایک امر لازمی ہے جس سے کسی عاقل کو انکار نہیں ۔ لیکن ( تم خوب سوچ کر دیکھ لو ) کہ ہر ایک غلطی پر متنبہ ہو جانا اور اس کی اصلاح کر لینا امر لازمی نہیں ہے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ لازمی کا تدارک غیر لازمی سے ہمیشہ اور ہر حال میں ممکن نہیں۔ بلکہ غلطی لازمی کی اصلاح وہی شے کر سکتی ہے جس کو بمقابلہ اس کے صحت و راستی لازم ہو ۔ جس میں ذلك الكتبُ لَا رَيْبَ فِيهِ کی صفت پائی جائے ۔ اور یہ بات کہ کیوں توحید خالص الہام الہی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ البقرة: ٣