برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 24

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴ بركات الدعاء ہوتے ہیں اور اُن کا جو ہر نفس انبیاء کے جو ہر نفس سے اشد مشابہت رکھتا ہے ۔ اور وہ خواص عجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہو جائے اور یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ انبیاء علیہم السلام دنیا سے بے وارث ہی گذر گئے اور اب اُن کی نسبت کچھ رائے ظاہر کرنا بجز قصہ خوانی کے اور کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک صدی میں ضرورت کے وقت اُن کے وارث پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس صدی میں یہ عاجز ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھ کو اس زمانہ کی اصلاح کیلئے بھیجا ہے تاوہ غلطیاں جو بجز خدا تعالیٰ کی خاص تائید کے نکل نہیں سکتی تھیں وہ مسلمانوں کے خیالات سے نکالی جائیں اور منکرین کو بچے اور زندہ خدا کا ثبوت دیا جائے اور اسلام کی عظمت اور حقیقت تازہ نشانوں سے ثابت کی جائے سو یہی ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کے معارف ظاہر ہو رہے ہیں لطائف اور دقائق کلام ربانی کھل رہے ہیں نشان آسمانی اور خوارق ظہور میں آرہے ہیں اور اسلام کے حسنوں اور نوروں اور برکتوں کا خدا تعالیٰ نئے سرے جلوہ دکھا رہا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہیں دیکھے اور جس میں سچا جوش ہے وہ طلب کرے اور جس میں ایک ذرہ حب اللہ اور رسول کریم کی ہے وہ اُٹھے اور آزمائے اور خدا تعالی کی اس پسندیدہ جماعت میں داخل ہو دے جس کی بنیادی اینٹ اُس نے اپنے پاک ہاتھ سے رکھی ہے۔ اور یہ کہنا کہ اب وحی ولایت کی راہ مسدود ہے اور نشان ظاہر نہیں ہو سکتے اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ ہلاکت کی راہ ہے نہ سلامتی کی ۔ خدا تعالیٰ کے فضل کو ردمت کرو۔ اُٹھو آزماؤ اور پر کھو پھر اگر یہ پاؤ کہ معمولی سمجھ اور معمولی عقل اور معمولی باتوں کا انسان ہے تو قبول نہ کرو لیکن اگر کرشمہ قدرت دیکھو اور اُسی ہاتھ کی چمک پاؤ جو موید ان حق اور مکلمان الہی میں ظاہر ہوتا رہا ہے تو