برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 25

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵ بركات الدعاء قبول کر لو اور یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بڑا احسان یہی ہے کہ وہ اسلام کو مردہ مذہب رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ یقین اور معرفت اور الزام خصم کے طریقوں کو کھلا رکھنا چاہتا ہے ۔ بھلا تم آپ ہی سوچو کہ اگر کوئی وحی نبوت کا منکر ہو اور یہ کہے کہ ایسا خیال تمہارا سراسر وہم ہے تو اس کے منہ بند کرنے والی بجز اس کے نمونہ دکھلانے کے اور کونسی دلیل ہوسکتی ہے؟ کیا یہ خوشخبری ہے یا بد خبری کہ آسمانی برکتیں صرف چند سال اسلام میں رہیں اور پھر وہ خشک اور مردہ مذہب ہو گیا ؟ اور کیا ایک بچے مذہب کے لئے یہی علامتیں ہونی چاہئیں !!! غرض صحیح تفسیر کے لئے یہ معیار ہیں۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ سید صاحب کی تفسیران ساتوں معیاروں سے اپنے اکثر مقامات میں محروم و بے نصیب ہے ۔ اور اس وقت اس سے تعرض کرنا ہمارا مقصود نہیں ۔ سید صاحب کو قانون قدرت پر بڑا ہی ناز تھا (۳۰) مگر اپنی تفسیر میں وہ قانون قدرت کا لحاظ بھی چھوڑ گئے ۔ مثلاً اُن کا یہ اعتقاد کہ وحی نبوت بجز اپنے ہی فطرت کے ملکہ کے اور کچھ چیز نہیں اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں ملائکہ کا واسطہ نہیں ۔ کس قدر خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے ۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے جسمانی قوی کی تکمیل کے لئے آسمانی توسط کے محتاج ہیں ۔ ہمارے اس بد نی سلسلہ کے قیام اور اغراض مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے آفتاب اور مہتاب اور ستاروں اور عناصر کو ہمارے لئے مسخر کیا ہے۔ اور کئی وسائط کے پیرا یہ میں ہو کر اس علت العلل کا فیض ہم تک پہنچتا ہے اور بے واسطہ ہر گز نہیں پہنچتا۔ مثلاً اگر چہ ہماری آنکھوں کو تو نور خدا وند تعالیٰ ہی سے ملتا ہے کیونکہ وہی تو علت العلل ہے مگر وہ آفتاب کے واسطے سے ہماری آنکھوں تک پہنچاتا ہے ہم ایک چیز بھی نظام ظاہری میں ایسی نہیں دیکھتے جس کو خدا تعالیٰ بلا واسطہ آپ ہی اپنا مبارک ہاتھ لمبا کر کے ہمیں دے دے ۔