برکاتُ الدُّعا — Page 23
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳ بركات الدعاء اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین وحی کو ساکت کر سکے اُسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محدثیت ہمیشہ کے لئے جاری رہے ۔ سو اُس نے ایسا ہی کیا۔ محدث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ الہی سے مشرف بقیه حاشیه۔ اگر چہ شعراء وغیرہ کو بھی سوچنے کے بعد القا ہوتا ہے مگر اس وحی کو اس سے مناسبت دینا سخت بے تمیزی ہے کیونکہ وہ القا خوض اور فکر کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہوش وحواس کی قائمی اور انسانیت کی حد میں ہونے کی حالت میں ظہور کرتا ہے لیکن یہ القا صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصرف میں آجاتا ہے اور اپنا ہوش اور اپنا خوض کسی طور سے اُس میں دخل نہیں رکھتا اُس وقت زبان ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا یہ اپنی زبان نہیں اور ایک دوسری زبر دست طاقت اس سے کام لے رہی ہے ۔ اور یہ صورت جو میں نے بیان کی ہے اس سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ فطرتی سلسلہ کیا چیز ہے اور آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے؟ بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی اس منحوس نیچریت کو مسلمانوں کے دلوں سے ایسا دھود یوے کہ کوئی داغ اس کا باقی نہ رہے کیونکہ اسلام کی برکتیں جس آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں وہ آنکھ تب تک نہیں کھلے گی جب تک کہ یہ دُخان آگے سے دور اور دفع نہیں ہوگا۔ اے نیچر شوخ این چه ایزاست از دست تو فتنہ ہر طرف خاست آن کس که ره گجت پسندید دیگر نه گزید جانب راست چو ز غور و فکر پینیم از ماست مصیبتی که بر ما است متروک شد است درس فرقان زان روز هجوم این بلاها است نیچر نه باصلِ خویش بد بود دین گم شد و نور عقل با کاست بر قطره نگون شدند یک بار رو تافته زان طرف که دریا است بر جنت و حشر و نشر خندند کین قصه بعید از خردها است چوں ذکر فرشتگان بیاند گویند خلاف عقل دانا است سید سرگروه این قوم هشدار کہ پائے تو نہ بر جا است پیرانہ سر این چه در سر افتاد و توبه کن این نه راه تقواست ترسم که بدین قیاس یک روز گوئی کہ خدا خیال بیجا است اے خواجہ برو که فکر انسان در کار خدا ز نوع سودا است خیزد بنشین که نه تین کہ نہ جائے شور و غوغا است آخر ز قیاس ہا اے بندہ بصیرت از خدا خواه اسرار خدا نه خوان یغما است