برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 14

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴ بركات الدعاء زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہر گز اُس کی ماں پورا نہیں کرے گی ۔ اور اگر پورا کر دیوے اور اتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شاکی ہوگا اور بجز اس کے اور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اُس وقت تک دعا کو دعا نہیں کہہ سکتے ۔ اور جب تک کسی دعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دعا کی گئی ہے اور جو دعا کرتا ہے ان میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثر دعا امید موہوم ہے ۔ اور جب تک ارادہ الہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتا تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں۔ اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں ۔ سید صاحب اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ دار آخرت کی سعادتیں اور نعمتیں اور لذتیں اور راحتیں جن کی نجات سے تعبیر کی گئی ہے ایمان اور ایمانی دعاؤں کا نتیجہ ہیں پھر جبکہ یہ حال ہے تو سید صاحب کو ماننا پڑا کہ بلاشبہ ایک مومن کی دعائیں اپنے اندر اثر رکھتی ہیں اور آفات کے دور ہونے اور مرادات کے حاصل ہونے کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ اگر موجب نہیں ہوسکتیں تو پھر کیا وجہ کہ قیامت میں موجب ہو جا ئیں گی ۔ سوچو اور خوب سوچو کہ اگر در حقیقت دعا ایک بے تاثیر چیز ہے اور دنیا میں کسی آفت کے دور ہونے کا موجب نہیں ہو سکتی تو کیا وجہ کہ قیامت کو موجب ہو جائے گی ؟ یہ بات تو نہایت صاف ہے کہ اگر ہماری دعاؤں میں آفات سے بچنے کے لئے درحقیت کوئی تاثیر ہے تو وہ تا شیر اس دنیا میں بھی ظاہر ہونی چاہیے تا ہما را یقین بڑھے اور امید بڑھے اور تا آخرت کی نجات کے لئے ہم زیادہ سرگرمی سے دعائیں کریں ۔ اور اگر در حقیقت دعا کچھ چیز نہیں صرف پیشانی کا نوشتہ پیش آنا ہے تو جیسا دنیا کی آفات کے لئے بقول سید صاحب دعا عبث ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی عبث ہوگی اور اس پر اُمید رکھنا طمع خام ۔ اب میں اس بارے میں اس سے زیادہ لکھنا نہیں چاہتا کیونکہ