برکاتُ الدُّعا — Page 13
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۳ بركات الدعاء اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعید نہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دعا مانگنے پرز جرو تو یخ کی گئی ہے چنانچہ ای اعظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ اس پر شاہد ہےاس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لَا تَسْئَلُنِ کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا ! اور بعض اوقات اولیا اور انبیا دعا کرنے کوسوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دعاؤں میں استغناء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے (10) دعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دعا سے منہ پھیر لیا ۔ ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رڈ کروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ ہے بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ اليد إن شاء سورۃ الانعام الجزء نمبرے اور اگر ہم تنز لامان بھی لیں کہ اس مقام میں لفظ اُدْعُو سے عام طور پر دعا ہی مراد ہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دعا سے وہ دعا مراد ہے جو بجميع شرائط ہو ۔ اور تمام شرائط کو جمع کر لینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق از لی یاور نہ ہو اور یہ بھی یادر ہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتا ہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحت الہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے۔ اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی ۔ مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے یا ایک ۲۰۱ هود: ۴۷ الانعام : ۴۲