ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 550

ایّام الصّلح — Page 350

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۰ امام الصلح پڑا رہتا تھا ۔ اور آخر کئی اسباب جمع ہو کر یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اور پیاس ، مجرم مرجاتا تھا مگر جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جو شخص جمعہ میں صلیب پر کھینچا جا تا تھا وہ اُسی دن اُتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزا تھا۔ سو یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا ۔ اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالی کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے پیدا کر دئیے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اور وہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ ہی ایک سخت آندھی آئی جس نے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔ اب یہودی ڈرے کہ شاید شام ہوگئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو صلیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہب کے رُو سے دن سے پہلے جو رات آتی ہے وہ آنے والے دن میں شمار کی جاتی ہے۔ اس لئے جمعہ کے بعد جو رات تھی وہ سبت کی رات تھی ۔ لہذا یہودی آندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو۔ اس لئے جلدی سے انہوں نے اتار لیا اور دو چور جو ساتھ صلیب دیے گئے تھے اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور پر سمجھایا گیا تھا کہہ دیا کہ اب نبض نہیں ہے اور یسوع مر چکا ہے۔ مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ راستباز کا قتل کرنا کچھ سہل امر نہیں اس لئے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی یسوع کے بچانے کے لئے تدبیریں کر رہے تھے بلکہ یہود بھی حواس باختہ تھے اور آثار قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ گئے تھے اور اُس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جوان پر آتے رہے اُن کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ اس لئے کسی یہودی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضرور ہڈیاں توڑیں گے اور ہم باز نہیں آئیں گے کیونکہ اُس وقت رب السماوات والارض نہایت غضب میں تھا اور جلال الہی یہودیوں کے دلوں پر ایک رُعب ناک کام کر رہا تھا۔