ایّام الصّلح — Page 351
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۱ امام اصلح لہذا انہوں نے جن کے باپ دادے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کرتے آئے تھے جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہوکر گھروں کی طرف بھاگے۔ اس بات پر یقین کرنے کے لئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا۔ اب یہ مشابہت جو نبی کے منہ سے نکلی ہے قابل غور ہے۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں رکھے گئے تھے تو پھر مُردہ اور زندہ کی کس طرح مشابہت ہو سکتی ہے؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا ر ہا تھا ؟ سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہر گز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے۔ پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب ۱۴ کے میں دکھلایا گیا کہ اگر یہ شخص مارا گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام صلیب دئیے جاتے یعنی صلیبی موت سے مر جاتے تو ضرور تھا کہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھا وہ وعید پورا ہوتا۔ حالانکہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی ۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لئے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔ چوتھی دلیل یہ ہے کہ صلیب پر پھر مسیح نے اپنے بچنے کے لئے یہ دعا کی ۔ ایلی ایلی لما سبقتانی “ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اب کیونکر ممکن ہے کہ جب کہ اس حد تک اُن کی گدازش اور سوزش پہنچ گئی تھی پھر خدا اُن پر رقم نہ کرتا۔ پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر اتارے گئے اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں اُن کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو