ایّام الصّلح — Page 349
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۹ امام الصلح گھبرایا اور اندر ہی اندر اس فکر میں لگ گیا کہ کسی طرح یسوع کو قتل سے بچا لیا جائے ۔ سو اس دلی منصوبہ کے انجام کے لئے پہلا داؤ جو اُس نے یہودیوں کے ساتھ کھیلا وہ یہی تھا کہ یہ تدبیر کی کہ یسوع کو جمعہ کے روز عصر کے وقت صلیب دی جائے۔ اور اُسے معلوم تھا کہ یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کے رُو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ قتل کیا جائے خدا کی لعنت اُس پر پڑ جاتی ہے اور پھر خدا کی طرف اُس کا رفع نہیں ہوتا۔ اور بعد اس کے یہ امر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ خدا اس سے محبت کرے اور یا وہ خدا کی نظر میں ایمانداروں اور راستبازوں میں شمار کیا جائے ۔ لہذا یہودیوں کی یہ خواہش (۱۲) تھی کہ یسوع کو صلیب دے کر پھر توریت کے رُو سے اس بات کا اعلان دے دیں کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو ہرگز مصلوب نہ ہو سکتا اور اس طرح پر مسیح کی جماعت کو متفرق کر دیں یا جولوگ اندر ہی اندر کچھ نیک ظن رکھتے تھے اُن کی طبیعتوں کو خراب کر دیں۔ اور خدانخواستہ اگر واقعہ صلیب وقوع میں آجاتا تو حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح اُن کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی اور نہ وہ راستباز ٹھہر سکتے اس لئے خدا تعالی کی حمایت نے وہ تمام اسباب جمع کر دئیے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہونے سے بچ گئے ۔ ان اسباب میں سے پہلا سبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا اور اُس سے ڈر کر پیلاطوس نے یہ تدبیر سوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے ۔ اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالباً اس قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا۔ وجہ یہ کہ یہودیوں کی شریعت کے رُو سے یہ حرام تھا کہ کوئی شخص سبت میں یا سبت سے پہلی رات میں صلیب پر رہے اور صلیب دینے کا یہ طریق تھا کہ صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اُس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں