آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 550

آریہ دھرم — Page 45

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۵ آریہ دھرم اعتدال بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ایک مصیبت میں عورتیں پڑی ہوئی تھیں جیسا کہ اس کا ذکر جان ڈیون پورٹ اور دوسرے بہت سے انگریزوں نے بھی لکھا ہے۔ قرآن کریم نے ان صد با نکاحوں کے عدد کو گھٹا کر چار تک پہنچا دیا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةٌ یعنی اگر تم ان میں اعتدال نہ رکھو تو پھر ایک ہی رکھو پس اگر کوئی قرآن کے زمانہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھے کہ دنیا میں تعدد ازواج کس افراط تک پہنچ گیا تھا اور کیسی بے اعتدالیوں سے عورتوں کے ساتھ برتاؤ ہوتا تھا تو اُسے اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن نے دنیا پر یہ احسان کیا کہ اُن تمام بے اعتدالیوں کو موقوف کر دیا لیکن چونکہ قانون قدرت ایسا ہی پڑا ہے کہ بعض اوقات انسان کو اولاد کی خواہش اور بیوی کے عقیمہ ہونے کے سبب سے یا بیوی کے دائمی بیمار ہونے کی وجہ سے یا بیوی کی ایسی بیماری کے عارضہ سے جس میں مباشرت ہر گز ناممکن ہے جیسی بعض صورتیں خروج رحم کی جن میں چھونے کے ساتھ ہی عورت کی جان نکلتی ہے اور کبھی دینا دین سال ایسی بیماریاں رہتی ہیں۔ اور یا بیوی کا زمانہ پیری جلد آنے سے یا اُس کے جلد جلد حمل ۴۰ دار ہونے کے باعث سے فطرتا دوسری بیوی کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے اس قدر تعدد کے لئے جواز کا حکم دے دیا اور ساتھ اس کے اعتدال کی شرط لگادی سو یہ انسان کی حالت پر رحم ہے تا وہ اپنی فطری ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت انہی حکمت کے تدارک سے محروم نہ رہے جن کو اس بات کا علم نہیں کہ عرب کے باشندے قرآن شریف سے پہلے کثرت ازدواج میں کس بے اعتدالی تک پہنچے ہوئے تھے ایسے بیوقوف ضرور کثرت ازدواجی کا الزام اسلام پر لگائیں سے مگر تاریخ کے جاننے والے اس بات کا اقرار کریں گے کہ قرآن نے ان رسموں کو گھٹایا ہے نہ کہ بڑھایا پس جس نے تعدد ازواج کی رسم کو گھٹایا اور نہایت ہی کم کر دیا اور صرف اُس اندازہ پر جواز کے طور پر رہنے دیا جس کو انسان کی تمدن کی ضرورتیں کبھی نہ کبھی چاہتی ہیں کیا اس کو کہہ سکتے ہیں کہ اس نے شہوت رانی کی تعلیم سکھائی ہے؟ اس جگہ ہم جان جملہ ڈیون پورٹ کی کتاب سے اور دوسرے چند فاضل انگریزوں کی بعض نوٹ ۔ جان ڈیون پورٹ اپنی کتاب کے صفحہ ۸۵ میں لکھتے ہیں کہ اہل عرب میں ایک سے زیادہ بیویاں کرنے ل النساء : ۴