آریہ دھرم — Page 44
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴ آریہ دھرم دیتے ہیں تو الزامی جوابوں سے پہلے اپنی عورتوں سے کھلے کھلے طور پر نیوگ کرا کر دکھلا ہمیں ورنہ جھوٹے مردار ہیں۔ یہ بات سن کر پنڈت جی چپکے ہی کھسک گئے پھر بات نہ کی۔ قادیان کے آریوں کے اُن اعتراضوں کا جواب جو اُنہوں نے اپنے اشتہار میں لکھے ہیں اوّل ۔ اسلام کی تعلیم میں عورت کو محض ایک ذریعہ شہوت رانی کا سمجھا گیا ہے۔ الجواب ہم اسی رسالہ میں لکھ چکے ہیں کہ اسلام نے نکاح کرنے سے علت غائی ہی یہی رکھی ہے کہ تا انسان کو وجہ حلال سے نفسانی شہوات کا وہ علاج میسر آوے جو ابتدا سے خدا تعالیٰ کے قانون قدرت ۳۹ میں رکھا گیا ہے اور اس طرح اس کو عفت اور پر ہیز گاری حاصل ہو کر نا جائز اور حرام شہوت رانیوں سے بچا رہے کیا جس نے اپنی پاک کلام میں فرمایا کہ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ یعنی تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اُس کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ اس کی غرض صرف یہ تھی که تا لوگ شہوت رانی کریں اور کوئی مقصد نہ ہو کیا کھیتی سے صرف لہو ولعب ہی غرض ہوتی ہے یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو بیچ بویا گیا ہے اُس کو کامل طور پر حاصل کر لیں۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا جس نے اپنی مقدس کلام میں فرما یا مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِین کے یعنی تمہارے نکاح کا یہ مقصود ہونا چاہئے کہ تمہیں عفت اور پر ہیز گاری حاصل ہو اور شہوات کے بدنتائج سے بچ جاؤ۔ یہ نہیں مقصود ہونا چاہئے کہ تم حیوانات کی طرح بغیر کسی پاک غرض کے شہوت کے بندے ہو کر اس کام میں مشغول رہو کیا اس حکیم خدا کی نسبت یہ خیال کر سکتے ہیں کہ اُس نے اپنی تعلیم میں مسلمانوں کو صرف شہوت پرست بنانا چاہا اور یہ باتیں فقط قرآن شریف میں نہیں بلکہ ہماری معتبر حدیث کی دوکتا ہیں بخاری اور مسلم میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت ہے اور اعادہ کی حاجت نہیں ہم اس رسالہ میں لکھ چکے ہیں قرآن کریم تو اسی غرض سے نازل ہوا کہ تا اُن کو جو بندہ شہوت تھے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع دلا دے اور ہر یک بے اعتدالی کو دور کرے۔ عرب میں صدہا بیویوں تک نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے درمیان ل البقره: ۲۲۴ ۲ النساء: ۲۵