آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 550

آریہ دھرم — Page 46

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۶ آریہ دھرم عبارتیں حاشیہ میں نقل کر کے لکھتے ہیں تا معلوم ہو کہ مخالف لوگوں نے بھی باوجود یکہ نہیں چاہتے تھے کہ ۳۱ تائید اسلام میں کچھ لکھیں مجبور ہو کر اس شہادت کو ادا کر دیا ہے ہاں بعض بدذات پادری جو اپنے فطرتی تعصب کے ساتھ جہالت کو بھی جمع رکھتے تھے انہوں نے شیاطین کی طرح بہت افترا کئے اور صد ہا اعتراض اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جما دیئے مگر دیکھنا چاہئے کہ اُن وام ایک بقیہ نوٹ کا قدیم سے رواج چلا آتا تھا آپ کے احکام نے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے کثرت نکاح کے طریق کو جو اہل مشرق میں بہت رواج پا گیا تھا کم کر دیا یعنی گھٹادیا وہ لوگ علاوہ کثرت ازدواج کے اپنی رشتہ دار عورتوں سے بھی خراب ہوا کرتے تھے مگر آپ کی تعلیم سے وہ باتیں بالکل معدوم ہو گئیں۔ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ جو قرآن شریف پڑھے اور اُس کے دل پر خوف کا اثر نہ ہو۔ حقیقت میں یہ بات نا ممکن ہے کہ ایک شخص بانی مذہب ہو اور وہ ایسی باتیں نکالے جن سے بدکاری رائج ہو اور پھر اُس کے مذہب میں بالکل کامیابی حاصل ہو جائے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مذہب کے مسائل کی سختی ہی زیادہ اس کی کامیابی کی باعث ہوئی ہے اور پھر صفحہ ۱۷۲ میں لکھتے ہیں کہ مشرق میں بہت سے نکاح کرنے کی رسم حضرت ابراہیم کے وقت سے ہی چلی آتی ہے اور یہ بات انجیل کے بہت سے فقروں سے ثابت ہے کہ یہ رسم انجیل کے زمانہ میں بھی بُرے خیال سے نہیں کی گئی ایسا ہی پروفیسر مارس صاحب اسلامی تعلیم کے اعتدال کی تعریف کر کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جب عیسائی مذہب کے بیچ دری اور ناقابل فہم عقیدوں پر خیال کیا جاتا ہے تو شاید ایک فلاسفر دین اسلام کی خوبی اور صفائی عقائد اور سادگی اور اُس کا بناوٹ سے پاک ہونا دیکھ کر آہ کر کے پچھتاوے کہ میرا مذہب ایسا کیوں نہ ہوا پھر گبن صاحب اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں یہودیوں میں جو رواں کرنے کی کوئی حد نہ تھی۔ اور مجوسیوں نے اپنی ماؤں کو بھی اپنے لئے مباح کر لیا تھا۔ ایسا ہی عرب بھی بلا تعین جورو میں رکھتے تھے اور اُنکی اخلاقی حالت یہاں تک بگڑ گئی تھی کہ میراث کے مال کی طرح باپ کی منکوحہ عورتوں کو بھی باہم بانٹتے تھے اور تمام عورتیں بلا کسی امتیاز کے مردوں کی وحشیانہ خواہشوں کے پورا کرنے کا آلہ سمجھی جاتی تھیں بلکہ بعض قبائل یمن میں جو کسی قدر یہودی اور ی نوٹ: نیوگ کے بارے میں وید اور دیانند اور منواور پوران اور یا گولک جی کی گواہی تو ہم لکھ چکے ہیں اب گبن جیسے فاضل انگریز کی بھی گواہی سن لو۔ منه