آریہ دھرم — Page 43
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳ آریہ دھرم ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دیتے اور ان کی بدکاری سے کراہت نہیں کرتے بلکہ کسی آشنا کو گھر میں دیکھ کر واپس چلے جاتے ہیں اُن کی لوگ کچھ تعریف نہیں کرتے بلکہ چاروں طرف سے اُن پر لعنتیں پڑتی ہیں اور دیوث کہلاتے ہیں اگر وہ انسانی غیرت سے طلاق دیتے تو کوئی بھی اُن کو بُرا نہ کہتا اس سے ثابت ہے کہ اس دنیا کے پیدا کرنے والے نے انسانوں کی عام فطرت میں یہ غیرت رکھ دی ہے کہ وہ ہرگز راضی نہیں ہوتی کہ ایک عورت منکوحہ نکاح کی حالت میں اپنے خاوند کی زندگی میں کسی دوسرے سے خرابی کرے اور جن لوگوں میں یہ فطرتی غیرت باقی نہیں رہی وہ اُس گندے اور سڑے ہوئے عضو کی طرح ہیں جو اپنی صحت کی تمام قوتوں کو کھو چکا ہے یہی سبب ہے کہ انسانی غیرت نے طلاق کو بے کراہت جائز رکھا اور نیوگ کو جائز نہ رکھا پس اسی باعث سے عام ہندو اس نیوگ کے عمل کو اپنی بہو بیٹیوں اور بیویوں سے چھپا (۳۸) چھپا کر کراتے ہیں اور کھلے طور پر کوئی شخص اپنی استری یا بیٹی کو کسی غیر سے ہم بستر نہیں کراتا پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی غیرت کے زور نے وید پر ایمان لانے سے روک دیا اگر یہ حکم انسانی غیرت کے موافق ہوتا تو تمام ہندو کھلے کھلے طور پر کر کے دکھلاتے اب کیسی بے شرمی ہے کہ کھلے طور پر نیوگ پر عمل کر کے نہیں دکھلاتے اور پھر طلاق سے اس کو مشابہت دیتے ہیں بھلا اگر اپنی بات میں بچے ہیں تو جیسے مسلمان ضرورتوں کے وقت کھلے کھلے طور پر طلاق دیدیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے ایسا ہی ہندو بھی اس عمل کو مرد میدان بن کر دکھلا وہیں مثلاً اس شہر میں دینا بیش ہندو اپنی عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراویں اور اشتہار دے دیں کہ آج رات فلاں فلاں لالہ صاحب اور فلاں فلاں پنڈت صاحب نے اپنی جوان عورت کو فلاں فلاں شخص سے اولاد کی غرض سے یا شہوت فرو کرانے کیلئے ہم بستر کرا دیا ہے اور جب تک اپنی عورتوں کو غیروں سے ہم بستر نہ کرا دیں تب تک اُن کو طلاق وغیرہ کا نام لے کر کسی الزامی جواب دینے کا حق نہیں پہنچتا۔ کیونکہ مسلمانوں کی کارروائی منافقانہ نہیں وہ جس بات کو اللہ و رسول کا حکم قرار دیتے ہیں اُس کے بجالانے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ کسی کی ملامت کا اندیشہ کرتے ہیں پس اگر ہندو بھی در حقیقت نیوگ کے مسئلہ کو سچا ہی سمجھتے ہیں اور برکتوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار