آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 550

آریہ دھرم — Page 27

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷ آریہ دھرم کا بھی جواز پایا جاتا ہے اس لئے ہم منو کی پیروی نہیں کر سکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ منو کو ایسی بدفعلیوں کے لئے بھی کوئی دید کی شرقی ضرور ملی ہوگی اور جبکہ خاندان کی ترقی کے لئے منکوحہ عورتوں کو آپ لوگوں کا دید وہ نالائق اجازت دیتا ہے کہ جس کا ہم کئی مرتبہ ذکر کر چکے ہیں تو پھر اس سے بڑھ کر اور بے حیائی کیا ہوگی۔ جس سے منو نے آپ لوگوں کا دل دکھایا ہے سب سے گندہ مسئلہ تو نیوگ کا ہے پھر جب وہ وید میں موجود ہے تو کہنا چاہئے کہ وید میں سب کچھ ہے اور اگر یہی سچ تھا کہ بیگانہ نطفہ بھی اپنا نطفہ ٹھہر سکتا ہے تو پھر چاہئے تھا کہ بیرج داتا کی امراض متعدیہ نطفہ کے ساتھ نہ آویں بلکہ جس نے متبنٰی کیا ہے اس کی متعدی مرضیں متبنی کو لگ جائیں پھر جبکہ قانون قدرت جو حقیقی بیٹے کے متعلق ہے بدل نہ سکا تو نسب میں کیونکر تبدیلی واقع ہوگی۔ اور اس وقت یہ بیان کرنا بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں میں نیوگ کا مسئلہ ایک نہایت مشہور مسئلہ ہے یہاں تک کہ بعض نے اس کو صرف دینی واجبات سے ہی خیال نہیں کیا بلکہ بڑے ثواب کا ذریعہ خیال کیا ہے اور پرانے وید کے مفسروں نے بھی اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے چنانچہ آپ لوگ یا گولک جی کے نام سے واقف ہوں گے جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے جن کا وید بھاش بڑے معتبر پایہ کا سمجھا جاتا ہے اور جو آریہ ورت کے بڑے نامی فاضل اور اول درجہ کے دید دانوں میں سے شمار کئے گئے ہیں وہ اپنی کتاب یا گولک سمرتی کے ۶۸ - اشلوک میں لکھتے ہیں کہ جب عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ مجامعت کرنے سے اولاد نہ پیدا ہو اور نہ آئندہ امید ہو تو حیض سے فارغ ہوتے ہی منو پر یہ الزام ٹھیک نہیں کہ اُس نے نیوگ کا مسئلہ لکھا ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم خود وید میں موجود ہے اس میں نہ کوئی منو کا گناہ ہے نہ یا گولک کا نہ دیا نند کا نہ پوران والوں کا۔ ہاں بظاہر یہ الزام منو پر لگ سکتا ہے کہ اُس نے تمام ہندو عورتوں کو زنا کی رغبت دی ہے کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ بدفعلی عورتوں کی جبلی عادت ہے اور زنا کی حالت میں عورت کی سزا صرف اسی قدر ہے کہ اگر نطفہ قرار پکڑ گیا ہو تو اس کا خصم اُس کو اپنے نطفہ سے پاک کرے اور اگر قرار نہیں پکڑا تو حیض کا خون آتے ہی وہ آپ ہی پاک ہو جائے گی لیکن سوامی دیال نے جو کچھ بازاری عورتوں کی نسبت لکھا ہے وہ بھی اس سے کم نہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ اگر بازاری عورت حرام کاری سے انکار کرے اور خرچی لے چکی ہوتو وہ اس خرچی کا دو چند دام واپس کرے اور اگر بدفعلی کا وعدہ کر دیا ہو اور ابھی کچھ نہ لیا ہوتو جس قدر لینے کا وعدہ تھا اس قدر بطور تاوان دیوے یہی حکم مرد کی نسبت ہے لیکن درحقیقت یہ وید مقدس کے قوانین ہیں اس میں نہ منو پر کچھ دوش آ سکتا ہے نہ سوامی دیال وغیرہ پر۔ دیکھو تر جمعہ یا گولک ننمرت اذ ھیا ۲ شلوک ۲۹۶ ۔ अपुत्रां गुर्वनुज्ञातो देवरः पुत्र काम्याया । सपिण्डो वा सगोत्रो वा घृताभ्यक्त ऋतावियात् ॥ याज्ञवल्क्य स्मृति: अध्याय १ श्लोक् ६८ गृहीतवेतना वेश्या नच्छन्ती द्विगुणं वहेत् । अगृहीते समं दाप्यः पुमानप्येवमेव च ॥ 1۔37۔3 9۔386