آریہ دھرم — Page 26
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶ آریہ دھرم دیا یہ کس کو معلوم نہیں کہ منو ہندو دھرم میں ایک مسلم رہی ہے اور منوسمرتی کے ادھیا (۱) میں لکھا ہے کہ اُس وقت کے رشیوں نے اقرار کیا کہ وید کا جاننے والا منو ہی ہے۔ غرض منو ایسا مسلم ہے کہ عدالت انگریزی بھی ہندوؤں کے مذہبی مقدمات کو منو کے دھرم شاستر کی رو سے فیصلہ کرتی ہے پس یہ میچ نہیں ہے کہ منو ملحدانہ زندگی بسر کرتا تھا اور وید کی پیروی سے اُس نے استعفا دے رکھا تھا سب ہند و منو کو ایک بزرگ منش جانتے ہیں اور اگر فرض بھی کر لیں کہ منو اپنی تمام باتوں میں ویدوں کا تابع نہیں تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ نیوگ کا مسئلہ کچھ منو کا ہی خاص عقیدہ نہیں یہ تو آریہ دھرم میں ایک متفق علیہ عقیدہ ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ پنڈت دیانند نے بھی نیوگ کے ثبوت میں علاوہ وید کے منو کا حوالہ دیا ہے اب کیا دیا نند کی بھی عقل ماری گئی تھی کہ جو ایک ایسے آدمی کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے بیان میں وید کا ماہر نہیں۔ پھر جبکہ بڑے بڑے دھرم مورت لوگ منو کو ایسا سمجھتے رہے کہ وہ اپنے ہر یک قول میں وید کا پیرو ہے اور دیا نند ستیارتھ پر کاش میں اس کی بہت تعریف کرتا ہے تو پھر اس کی گواہی کو منظور نہ کرنا اگر ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے اور اگر آپ لوگ منو سے ناراض ہیں تو منو کو جانے دیں مگر یہ تو فرمائے کہ کچھ وید پر بھی تو ناراضگی نہیں مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل ناراضگی آپ کی وید پر ہی ہے منو پر تو بظاہر دانت پیسے جاتے ہیں وہ بیچارہ ایسی شرتیوں کو دید میں پا کر کیونکر اور کہاں چھپا سکتا تھا ۔ کیا دیا نند اُن شرتیوں کو چھپا سکا کیا آپ لوگوں کے بڑے مہاراج یا گولک جی بھا شکار ویدان شرتیوں کو چھپا سکے تو پھر ایک دفعہ آپ لوگ ہاتھ دھو کر غریب منو کے پیچھے کیوں (۲۳) پڑ گئے یہ تو ظلم ہے اور اگر کہو کہ منو کے بعض دوسرے مقامات میں عام بدفعلی نوٹ۔ نیوگ صرف عقیدہ ہی نہیں بلکہ قدیم سے آریوں کا اس پر عملدرآمد ہے را جہ پانڈ کی رانیوں کا نیوگ تو ابھی بیان ہو چکا ہے اور ڈاکٹر برنیئر اپنی کتاب وقائع سیر و سیاحت میں لکھتا ہے کہ جگتا تھ کے مقام پر صید ہا جوان عورتیں نیوگ کرانے والی دیکھی گئیں جو یہ پاک کام صرف بیراگیوں اور جو گیوں سے ہی کراتی تھیں اور اُن کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۶ میں ایک ہندو خاندانی سے نقل کر کے لکھا ہے کہ وہ کشمیر کے ایک ضلع میں گیا تو اس ضلع کے ہندوؤں نے اس کو خاندانی پا کر اپنی جو روان پیش کیں تا وہ اُن سے ہم بستر ہو دیں اور ایک معزز آدمی کی نسل سے انہیں فخر حاصل ہو۔ منہ