آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 550

آریہ دھرم — Page xxxv

اُن کی توجہ کے قابل نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی چٹھی میں جس کو ہم انشاء اﷲ تعالیٰ اپنے اخبار میں کسی اور وقت درج کریں گے صاف لکھ دیا ہے کہ وہ کوئی واعظ یا ناصح یا مولوی نہیں۔یہ کام واعظوں اور ناصحوں کا ہے۔جلسے کے پروگرام کے دیکھنے اور نیز تحقیق کرنے سے ہمیں یہ پتہ ملا ہے کہ جناب مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری، جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی اور جناب مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی نے اس جلسہ کی طرف کوئی جوشیلی توجہ نہیں فرمائی اور نہ ہمارے مقدس زمرۂ علماء میں سے کسی اور لائق فرد نے اپنا مضمون پڑھنے یا پڑھوانے کا عزم بتایا۔ہاں دو ایک عالم صاحبوں نے بڑی ہمت کر کے مانحن فیھا میں قدم رکھا۔مگر اُلٹا۔اس لئے انہوں نے یا تو مقرر کردہ مضامین پر کوئی گفتگو نہ کی یا بے سروپا کچھ ہانک دیا۔جیسا کہ ہماری آئندہ رپورٹ سے واضح ہو گا۔غرض جلسہ کی کارروائی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان تھے جنہوں نے اِس میدانِ مقابلہ میں اسلامی پہلوانی کا پورا حق ادا فرمایا ہے اور اس انتخاب کو راست کیا ہے جو خاص آپ کی ذات کو اسلامی وکیل مقرر کرنے میں پشاور۔راولپنڈی۔جہلم۔شاہ پور۔بھیرہ۔خوشاب۔سیالکوٹ۔جموں۔وزیر آباد۔لاہور۔امرتسر۔گورداسپور۔لدھیانہ۔شملہ۔دہلی۔انبالہ۔ریاست پٹیالہ۔کپورتھلہ۔ڈیرہ دون۔الٰہ آباد۔مدراس۔بمبئی۔حیدر آباد دکن۔بنگلور وغیرہ بلاد ہند کے مختلف اسلامی فرقوں سے وکالت ناموں کے ذریعہ مزیّن بدستخط ہو کر وقوع میں آیا تھا۔حق تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے روبرو ذلّت و ندامت کا قشقہ لگتا۔مگر خدا تعالیٰ کے زبردست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچا لیا۔بلکہ اُس کو اِس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمائی کہ موافقین تو موافقین