آریہ دھرم — Page xxxvi
مخالفین بھی سچی فطرتی جوش سے کہہ اُٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے۔بالا ہے۔صرف اسی قدر نہیں بلکہ اختتام مضمون پر حق الامر معاندین کی زبان پر یوں جاری ہو چکا کہ اب اسلام کی حقیقت کھلی اور اسلام کو فتح نصیب ہوئی۔جو انتخابِ تیر بہدف کی طرح روزِ روشن میں ٹھیک نکلا۔اب اس کی مخالفت میں دم زدن کی گنجائش ہے ہی نہیں۔بلکہ وہ ہمارے فخر و ناز کا موجب ہے اس لئے اِس میں اسلامی شوکت ہے۔اور اِسی میں اسلامی عظمت اور حق بھی یہی ہے۔اگرچہ جلسہ اعظم مذاہب کا ہند میں یہ دوسرا اجلاس تھا لیکن اِس نے اپنی شان و شوکت اور جاہ و عظمت کی رُو سے سارے ہندوستانی کانگرسو ں اور کانفرنسوں کو مات کر دیا ہے ہندوستان کے مختلف بلاد کے رؤساء اِس میں شریک ہوئے اور ہم بڑی خوشی کے ساتھ یہ ظاہر کیا چاہتے ہیں کہ ہمارے مدراس نے بھی اِس میں حصہ لیا ہے جلسہ کی دلچسپی یہاں تک بڑھی کہ مشتہرہ تین دن پر ایک دن بڑھانا پڑا۔انعقاد جلسہ کے لئے کارکن کمیٹی نے لاہور میں سب سے بڑی وسعت کا مکان اسلامیہ کالج تجویز کیا لیکن خلقِ خدا کا اژدہام اس قدر تھا کہ مکان کی (وسعت) غیر مکتفی ثابت ہوئی۔جلسہ کی عظمت کا یہ کافی ثبوت ہے کہ کل پنجاب کے عمائدین کے علاوہ چیف کورٹ اور ہائی کورٹ الہ آباد کے آنریبل ججز بابو پرتول چندر صاحب اور مسٹر بینر جی نہایت خوشی سے شریک جلسہ ہوئے۔‘‘ یہ مضمون پہلے ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ لاہور میں من و عن شائع ہوا۔اور جماعت احمدیہ کی طرف سے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے عنوان کے ماتحت کتابی صورت میں اس کے کئی ایڈیشن اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں اس کا ترجمہ فرانسیسی۔ڈچ۔سپینش۔عربی۔جرمن وغیرہ زبانوں میں بھی شائع ہو چکا ہے۔اور اِس پر بڑے بڑے فلاسفروں اور غیر ملکی اخبارات و رسائل کے ایڈیٹروں نے بھی نہایت عمدہ ریویو لکھے۔اور مغربی مفکّرین نے اس لیکچر کو بے حد سراہا۔مثلاً ۱۔’’برسٹل ٹائمز اینڈ مرر‘‘ نے لکھا :۔’’یقیناًوہ شخص جو اس رنگ میں یورپ و امریکہ کو مخاطب