آریہ دھرم — Page xxxiv
مدلّل اور بیش قیمت رائے پبلک کے پیش فرمائی تھی اُس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان، جناب سرسید احمد صاحب آف علی گڑھ کو انتخاب فرمایا تھا اور ساتھ ہی اس اسلامی وکالت کا قرعہ حضرات ذیل کے نام نکالا تھا۔جناب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی، جناب مولوی حاجی سید محمد علی صاحب کانپوری اور مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی، یہاں یہ ذکرکر دینا بھی نامناسب نہ ہو گا کہ ہمارے ایک لوکل اخبار کے ایک نامہ نگار نے جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی مصنّف تفسیر حقّانی کو اس کام کیلئے منتخب فرمایا تھا۔‘‘ اِس کے بعد سوامی شوگن چندر کے اشتہار سے اُس حصّہ کو نقل کر کے جس میں انہوں نے علمائے مذاہب مختلفہ ہند کو بہت عار دلا دلا کر اپنے اپنے مذہب کے جوہر دکھلانے کے لئے طلب کیا تھا۔یہ اخبار لکھتا ہے:۔’’اِس جلسے کے اشتہاروں وغیرہ کے دیکھنے اور دعوتوں کے پہنچنے پر کِن کِن علمائے ہند کی رگِ حمیّت نے مقدس دینِ اسلام کی وکالت کے لئے جوش دکھایا اور کہاں تک انہوں نے اسلامی حمایت کا بیڑہ اُٹھا کر حجج و براہین کے ذریعے فرقانی ہیبت کا سکّہ غیر مذاہب کے دل پر بٹھانے کے لئے کوشش کی ہے۔ہمیں معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ کارکنانِ جلسہ نے خاص طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور سرسید احمد صاحب کو شریک جلسہ ہونے کے لئے خط لکھا تھا حضرت مرزا صاحب تو علالت طبع کی وجہ سے بنفسِ نفیس شریک جلسہ نہ ہو سکے۔مگر اپنا مضمون بھیج کر اپنے ایک شاگردِ خاص جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کو اس کی قراء ت کے لئے مقرر فرمایا۔لیکن جناب سرسیّد نے شریک جلسہ ہونے اور مضمون بھیجنے سے کنارہ کشی فرمائی۔یہ اس بنا پر نہ تھا کہ وہ معمّرہو چکے ہیں اور ایسے جلسوں میں شریک ہونے کے قابل نہ رہے ہیں۔اور نہ اس بنا پر تھا کہ اُنہی ایّام میں ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد میرٹھ میں مقرر ہو چکا تھا بلکہ یہ اِس بنا پر تھا کہ مذہبی جلسے