آریہ دھرم — Page xxxiii
اہلِ مذاہب ششدر رہ گئے کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت تمام ہال اوپر نیچے سے بھر رہا تھا۔اور سامعین ہمہ تن گوش ہو رہے تھے۔مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں میں امتیاز کے لئے اس قدر کہنا کافی ہے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت خلقت اس طرح آ آ کر گری جیسے شہد پر مکّھیاں۔مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے لطفی بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے اُٹھ جاتے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا لیکچر بالکل معمولی تھا وہی ملاّئی خیالات تھے جن کو ہم لوگ ہر روز سُنتے ہیں۔اس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی اور مولوی صاحب موصوف کے دوسرے لیکچر کے وقت کئی شخص اُٹھ کر چلے گئے تھے۔مولوی صاحب ممدوح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کے لئے چند منٹ زائد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔‘‘ (اخبار ’’چودھویں صدی‘‘ راولپنڈی بمطابق یکم فروری ۱۸۹۷ء) اخبار ’’جنرل و گوہر آصفی‘‘ کلکتہ نے ۲۴؍ جنوری ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں ’’جلسہ اعظم منعقدہ لاہور‘‘ اور ’’فتح اسلام‘‘ کے دوہرے عنوان سے لکھا:۔’’پیشتر اس کے کہ ہم کارروائی جلسہ کی نسبت گفتگو کریں ہمیں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ہمارے اخبار کے کالموں میں جیسا کہ اُس کے ناظرین پر واضح ہو گا یہ بحث ہو چکی ہے کہ اس جلسہ اعظم مذاہب میں اسلامی وکالت کے لئے سب سے زیادہ لائق کون شخص تھا۔ہمارے ایک معزز نامہ نگار صاحب نے سب سے پہلے خالی الذہن ہو کر اور حق کو مدّنظر رکھ کر حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کو اپنی رائے میں منتخب فرمایا تھا جس کے ساتھ ہمارے ایک اور مکّرم مخدوم نے اپنی مراسلت میں توارداً اتفاق ظاہر کیا تھا جناب مولوی سید محمد فخر الدین صاحب فخر نے بڑے زور کے ساتھ اس انتخاب کی نسبت جو اپنی آزاد