آریہ دھرم — Page xxxii
سیالکوٹی نے نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے پڑھا یہ لیکچر دو دن میں تمام ہوا۔۲۷؍ دسمبر قریباً چار گھنٹے اور ۲۹؍ دسمبر کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا۔کل چھ گھنٹے میں یہ لیکچر تمام ہوا۔جو حجم میں ۱۰۰ صفحے کلاں تک ہو گا۔غرضیکہ مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لئے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی عمر بھر ہمارے کانوں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سُنا دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے سچ تو یہ ہے کہ وہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے عموماً سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو انہوں نے بہت ہی کم مَسْ کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگر اُس میں جاندار بات کوئی نہیں تھی۔بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو اِن سوالوں کا علیحدہ علیحدہ مفصّل اور مکّمل جواب تھا اور جس کو حاضرین جلسہ نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سُنا اور بڑا بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں اور نہ اُن سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے۔اور نہ کوئی سلیم الفطرت اور صحیح کانشنس اس کو روا رکھ سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول اور فروعاتِ اسلام کو دلائلِ عقلیہ سے اور براہینِ فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزیّن کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہٰیات کے مسئلہ کو ثابت کرنا اور اس کے بعد کلامِ الٰہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان دکھاتا تھا۔مرزا صاحب نے نہ صرف مسائلِ قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظِ قرآن کی فلالوجی اور فلاسوفی بھی ساتھ ساتھ بیان کردی۔غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ ہیئت مجموعی ایک مکمّل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفۂ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام