انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 581

انوارالاسلام — Page 33

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۳ انوار الاسلام ہر ایک پر ظاہر کرتے ہیں کہ عبدالحق اور اس کے گروہ کی ذلت ہوئی کیونکہ اس مباہلہ کے بعد ہر ایک ایسا امر پیدا ہوا کہ جو ہماری عزت کا موجب اور ان کی ذلت کا موجب تھا۔ (1) ایک ان میں سے یہ کہ ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صد ہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلت ۔ کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلا د عرب میں اس کا نام ونشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بے شک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلت دیکھتے ہوں گے۔ (۲) دوئم ۔ جب ہم مباہلہ کے لئے گئے تو ہمارا بڑا بیٹا سخت بیمار تھا اور ایک سخت بیماری دامن گیر تھی ہم نے کچھ بھی اس کی پروانہ کی اور اسی حالت میں سفر کیا مگر خدا تعالیٰ نے مباہلہ کے بعد ہی اس کو شفا بخش دی۔ کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ شفا ان کی مراد کے موافق ہوئی ۔ (۳) سوئم۔ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ہم نے اسی پندرہ مہینہ کے اندر تمام مکفر مولویوں کو ان کی مولویت پر کھنے کی غرض سے بالمقابل عربی رسائل بنانے کے لئے مخاطب کیا تھا تا وہ ذلیل ہوں پس خدا تعالیٰ نے آپ مدد دے کر اس میں ہمیں کامیاب کیا اور پادریوں کی طرح رسالہ نورالحق اور کرامات الصادقین اور سرالخلافہ کے مقابلہ سے وہ عاجز رہ گئے اور ایسی ذلت ان کو پہنچی کہ کچھ بھی مولویت کا نام ونشان باقی نہ رہا۔ ہم نے صاف طور پر لکھا تھا کہ اگر ان رسائل کا مقابلہ کر دکھا دیں تو چھ ہزارستائیس روپیہ کا انعام پاویں اور الہام کو جھوٹا ثابت کریں اور ہزار لعنت سے بچیں۔ اب اے مولوی عبدالحق مكفر المسلمین پیچ بتا کہ آپ نے کون سا بالمقابل رسالہ بنایا اور اگر نہیں لکھا تو سچ کہو کہ یہ ذلت کس کو پہنچی ہم کو یا تم کو ۔ (۴) چوتھی۔ یہ بڑی بھاری ذلت ہے جو اب آپ کو نصیب ہوئی اور یہ پیشگوئی سچی نکلی۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ان چار ذلتوں اور رسوائیوں اور ان باتوں کو جو اخیر میں ہم نے اپنی نسبت لکھی ہیں ۔ کسی منصف کے سامنے پیش کرو ۔ اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ اس سے تمہاری عزت قائم ہوئی ہے اور کوئی داغ نہیں لگا تو ہم قسما کہتے ہیں کہ ہم پانسور و پی تم کو انعام دیں گے۔ چنانچہ ہم شیخ محمد حسین بٹالوی کو ہی منصف قرار دیتے ہیں اور اس کے پاس ہی یہ روپیہ باضابطہ تحریر لے کر جمع کرا سکتے ہیں صرف اتنا ہو گا کہ وہ کھڑا ہو کر تین مرتبہ یہ تقریر کرے کہ یہ تمام وجوہ جو ذلت کی بیان کی گئی ہیں یہ بالکل صحیح نہیں ہیں اور ان باتوں سے جو بعد مباہلہ ظاہر ہوئیں عبد الحق اور