انوارالاسلام — Page 32
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۲ انوار الاسلام عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے پس اس پر کھانا پینا حرام ہے اگر وہ اس اشتہار کو پڑھے اور مسٹر عبد اللہ آتھم کے پاس نہ جائے اور اگر خداوند تعالیٰ کے خوف سے نہیں تو اس گندے لقب کے خوف سے بہت زور لگا دے کہ تا وہ کلمات مذکورہ کا اقرار کر دے اور تین ہزار روپیہ لے لے اور یہ کاروائی کر دکھاوے پھر اگر عبداللہ ا نتقم میعاد قرار دادہ سے بچ جائے تو بے شک تمام دنیا میں مشہور کر دے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے که سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور نا انصافی کی راہوں سے پیار کرتا رہے۔ اگر کسی کو ایسا ہی اسلام سے بغض اور عیسائیت کی طرف میل ہے اور بہر صورت عیسائیوں کو فتح یاب بنانا چاہتا ہے تو اب اس راہ کے سوا اور تمام راہیں بند ہیں نہ ہم کسی کو ولد الحرام کہتے نہ حرام زادہ نام رکھتے بلکہ جو شخص ایسے سید ھے اور صاف فیصلہ کو چھوڑ کر زبان درازی سے باز نہیں رہے گا وہ آپ یہ تمام نام اپنے لئے اختیار کرے گا خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بے شک اسلام کی فتح ہوئی اور دین محمد ی ہی غالب رہا اور عیسائی ذلیل ہوئے اور جو شخص اس فتح کو نہیں مانتا چاہیے کہ وہ اس طریق اور فیصلہ کی راہ سے ہم کو ملزم کرے اور اس فیصلہ کی راہ سے ہم کو جھوٹا اور مغلوب قرار دے اور نہ بجز اس کے کیا کہیں کہ یک خطا د و خطا سویم ما در بخطا ۔ اور ان مخالفوں کی عقل پر تعجب ہے کہ عبد اللہ آتھم کے ساتھ دوسرے لوگ جو فریق مخالف میں داخل تھے اور فریق کے اس لفظ میں شامل تھے جو پیشین گوئی میں تھا ان کے حالات پر کچھ بھی نظر نہیں کرتے کہ ان پر بھی کوئی ذلت آئی یا نہیں کیا پادری رائٹ نہیں مرا۔ کیا دو معاون مرمر کے نہیں بچے کیا پادری عماد الدین کے گلے میں ہزار لعنت کا رستہ نہیں پڑا جس کو کوئی چھوٹا منجی اتار نہیں سکتا کیا اس کا علم عربی سے بے بہرہ اور جاہل ہونا ثابت نہیں ہوا۔ کیا اس ثبوت سے اس کی مصنوعی عزت خاک میں نہ مل گئی بیشک وہ نہایت ذلیل ہوا اور اس کا کچھ باقی نہ رہا اور اس کی علمی آبرو نجاست کے بو دار گڑھے میں جا پڑی۔ اگر وہ با غیرت آدمی ہوتا تو اس ذلت کی وجہ سے کچھ کھا پی کر مر جاتا حیف ہے تمہارے ایمان اور سمجھ اور دینداری پر کہ ایسی کچی پیشگوئی کی تم نے تکذیب کی کیا ایک دن مرو گے یا نہیں یا ہمیشہ کے جینے کی خبر آ گئی ہے۔ یہ تو اس پیشگوئی کے متعلق بیان ہے جو عیسائیوں کے مقابل پر کی گئی تھی جس کو خدا تعالیٰ نے حسب المراد پورا کیا لیکن اکثر لوگ دریافت کیا کرتے ہیں کہ جو عبد الحق غزنوی کے ساتھ مباہلہ ہوا تھا اس کا کیا اثر ہوا اور کس فریق کو ذلت ہوئی تو اس کے جواب میں ہم بد یہی وجوہات کے ساتھ