انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 581

انوارالاسلام — Page 34

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۴ انوار الاسلام اس کے گروہ کی ذلت نہیں بلکہ عزت ہوئی اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا اس کا عذاب میرے پر میری آنکھوں پر میرے جسم پر میری عزت پر میری اولاد پر بہت جلد سال جلد کے اندر وارد کر اور ہم لوگ ہر یک اقرار پر آمین کہیں گے ۔ تب اسی وقت پانچ سور و پریہ شیخ محمد حسین کی ضمانت پر ان کو دے دیا جائے گا اگر سال کے اندر شیخ محمد حسین بٹالوی ان بلاؤں سے بچ گئے تو وہ رو پید ان کی ملک ہو جائے گا۔ اگر آپ لوگ اس طریق کو اختیار نہ کریں اور بدگوئی سے باز نہ آویں تو جائے شرم ہے اور یادر ہے کہ مباہلہ کے ایک سال ۳۳ کے اندر ہی خدا تعالی نے برکت پر برکت ہم پر نازل کی۔ اس کی خاص توفیق اور تائید پر عمدہ عمدہ کتا بیں تالیف ہوئیں۔ صدہا معارف و دقائق قرآنی کھلے اور کتابوں کے چھپنے اور ہمارے سلسلہ کی کارروائیوں کے لئے ہزار ہا روپیہ آیا اور ہزار ہائے لوگ جان و مال فدا کرنے والے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ۔ پس لازم ہوگا کہ شیخ محمد حسین اپنی قسم کے وقت ان سب باتوں کو جمع کر کے ان کا انکار کریں۔ اے غزنوی لوگو بہتر تو یہ ہے کہ باز آ جاؤ اور خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس سے لڑائی مت کرو جس چراغ کو وہ آپ ہی روشن کرے تم اس کو بجھا نہیں سکتے ۔ پس فولادی قلعہ کے ساتھ ٹکر میں مت مارو کہ تمہاری ٹکروں سے قلعہ ہرگز نہیں ٹوٹے گا۔ آخر نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے ہی سر پاش پاش ہو جائیں گے کیا تمہیں ذرا خوف نہیں کہ مسلمانوں کو کافر بناتے اور کلمہ گوؤں کا بے ایمان نام رکھتے ہو۔ بتلاؤ کہ عملی حالت میں ہم اور تم میں کیا فرق ہے کیا ہم کوئی شرک کا کام کرتے ہیں۔ کیا نمازوں کو چھوڑ دیا یا روزہ اور دیگر ارکان اسلام سے منکر ہو گئے ہیں یا حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا ہے اور کچھ تو بتلاؤ کہ عملی حالت اور اسلام کے ضروری عقائد ہم میں اور تم میں کیا فرق ہے۔ ہاں اگر مسیح کی وفات کے عقیدہ کی وجہ سے ہمیں کا فر کہا جاتا ہے تو امام مالک کو بھی کافر بناؤ کہ ان کا عقیدہ بھی یہی تھا جس سے رجوع ثابت نہیں۔ اور امام بخاری کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا تو کیوں وہ آیت فلما تو فیتنی کی شرح کے وقت تائید حدیث کیلئے ابن عباس کا یہ قول لا تا متوفیک ممیتک پس اس حساب سے امام بخاری بھی کافر ہوئے اور یہی عقید و ابن قیم نے مدارج السالکین میں ظاہر کیا ہے پس بقول تمہارے ابن قیم بھی کافر ہے اور معتزلہ کا یہی عقیدہ ہے پس وہ تمام لوگ صلحاء کی سنت قدیمہ سے ثابت ہے کہ مباہلہ کی غایت میعاد ایک سال تک ہوتی ہے سو ہم بدیہی ثبوت اپنے پاس رکھتے ہیں کہ جن برکات کو ہم نے اپنی نسبت لکھا ہے وہ ایک سال کے اندر ہی ہم پر وارد ہوئیں اور میاں عبد الحق کا جب سارا سال نحوستوں اور گردشوں میں گذرا تو سال کے بعد پندرھویں مہینہ پر مرتے مرتے یہ بات بنانا چاہا کہ آختم در ستمبر ۱۸۹۴ء کو نہیں مرا۔ یہی مباہلہ کا اثر ہے مگر بد قسمتی سے اس میں بھی جھوٹا نکلا ۔ منہ نوٹ: مجمع البحار میں جو ایک معتبر اہل حدیث کی کتاب ہے لکھا ہے وقال مالک ان عیسی مات مالک نے کہا ہے کہ عیسی مر گیا ہے اور بیان مفصل اس کا ہمارے رسالہ اتمام الحجۃ میں درج ہے ۔ منہ