انوارالاسلام — Page 100
روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام پس اسی وجہ سے ہمیں قانونا وانصافا حق پہنچا جو ہم پبلک پر اصل حقیقت ظاہر کرنے کے لئے آتھم صاحب سے قسم کا مطالبہ کریں۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں مداخلت بے جا کرتا ہوا پکڑا جاوے تو صرف یہ اپنا ہی عذر اس کا سنا نہیں جائے گا کہ وہ مثلا حقہ پینے کے لئے آگ لینے آیا تھا بلکہ اس کی بریت اور صفائی کے لئے کسی شہادت کی حاجت ہوگی ۔ سو اسی طرح جب آتھم صاحب نے اپنے پندرہ مہینہ کے حالات اور نیز اقرار سے ثابت کر دیا کہ وہ ایام پیشگوئی میں ضرور ڈرتے رہے ہیں تو بے شک ان سے یہ ایک ایسی بے جا حرکت صادر ہوئی جو ان کی عیسائیت کے استقلال کے برخلاف تھی اور چونکہ وہ حرکت پیشگوئی کے زمانہ میں بلکہ بعض نمونوں کو دیکھ کر ظہور میں آئی اس لئے وہ اس مطالبہ کے نیچے آگئے کہ کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ پیشگوئی کے رعب ناک اثر نے ان کا یہ حال بنا دیا تھا اور ضرور انہوں نے اسلامی عظمت کا خوف اپنے دل پر ڈال لیا تھا پس اسی وجہ سے انصاف اور قانون دونوں ان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ہمارے منشاء کے موافق قسم کھا کر اپنی بریت ظاہر کریں مگر وہ ایک جھوٹا عذر پیش کر رہے ہیں کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے پس ان کی یہی مثال ہے کہ جیسے ایک چور بے جا مداخلت کے وقت میں پکڑا جائے اور اس سے صفائی کے گواہ مانگے جائیں تو چور حاکم کو یہ کہے کہ میرے مذہب کی رو سے یہ منع ہے کہ میں صفائی کے گواہ پیش کروں یا اپنی بریت کے لئے قسم کھاؤں اس لئے میں آپ کی منت کرتا ہوں کہ مجھے یوں ہی چھوڑ دو۔ پس جیسا وہ احمق چور قانون عدالت کے برخلاف باتیں کر کے بقیه حاشیه : اور میرا باپ گورنمنٹ میں ایک نیک نام رئیس تھا تو کیا اب تک وہ اس بے جا الزام سے زیر مطالبہ نہیں آئے اور کیا وہ اس بے ہودہ عذر سے جو تم کھانا میرے مذہب میں درست نہیں قانونی جرم سے بری ہو سکتے ہیں اور ان کے حق میں موت کی پیشگوئی ان کی درخواست سے تھی نہ خود بخود کیونکہ انہوں نے الہامی نشان مانگا تھا۔ منہ