انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 581

انوارالاسلام — Page 99

روحانی خزائن جلد ۹ ۹۹ انوار الاسلام رہے کیونکہ جبکہ ڈرنے کا ان کو خود اقرار ہے چنانچہ وہ اس اقرار کوکئی مرتبہ روروکر ظاہر کر چکے ہیں تو اب یہ بار ثبوت انہیں کی گردن پر ہے کہ وہ الہامی پیشگوئی اور اسلامی صداقت سے نہیں (۲) ڈرے بلکہ اس لئے ڈرتے رہے کہ ان کو متواتر یہ تجربہ ہو چکا تھا کہ اس پیشگوئی سے پہلے اس عاجز نے ہزاروں کا خون کر دیا ہے اور اب بھی اپنی بات پوری کرنے کے لئے ضرور ان کا خون کر دے گا بقیه حاشیه جواب دیگر ہو۔ پس عیسائیوں کے مصنوعی اصول کے موافق یہ جواب چاہیے تھا کہ جیسا کہ ۳۶) تم نے گمان کیا ہے یہ غلط ہے اور میں اپنی انسانیت کی رو سے ہرگز ابن اللہ نہیں کہلاتا بلکہ ابن اللہ تو اقنوم دوم ہے جس کا تمہاری کتابوں کے فلاں فلاں مقام میں ذکر ہے لیکن مسیح نے ایسا جواب نہ دیا بلکہ ایک دوسرے مقام میں یہ کہا ہے کہ تمہارے بزرگ تو خدا کہلائے ہیں۔ پس ثابت ہے کہ دوسرے نبیوں کی طرح مسیح نے بھی اپنے انسانی روح کے لحاظ سے ابن اللہ کہلایا اور صحت اطلاق لفظ کے لئے گذشتہ نبیوں کا حوالہ دیا۔ پھر بعد اس کے عیسائیوں نے اپنی غلط نہی سے مسیح کو درحقیقت خدا کا بیٹا سمجھ لیا اور دوسروں کو بیٹا ہونے سے باہر رکھا پس اسی واقعہ صحیحہ کی قرآن مجید نے گواہی دی اور اگر کوئی یہ کہے کہ اقنوم ثانی کا مسیح کی انسانی روح سے ایسا اختلاط ہو گیا تھا کہ درحقیقت وہ دونوں ایک ہی چیز ہو گئے تھے اس لئے مسیح نے اقنوم ثانی کی وجہ سے جو اس کی ذات کا عین ہو گیا تھا خدائی کا دعوی کر دیا تو اس تقریر کا مال بھی یہی ہوا کہ بموجب زعم نصاری کے ضرور مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا کیونکہ جب اقنوم ثانی اس کے وجود کا تعین ہو گیا اور اقنوم ثانی خدا ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلا کہ مسیح خدا بن گیا ۔ سو یہ وہی ضلالت کی راہ ہے جس سے پہلے اور پچھلے عیسائی ہلاک ہو گئے اور قرآن نے درست فرمایا کہ یہ ہندو پرست ہیں۔ منہ حل آتھم صاحب نے اپنی متواتر تحریروں میں میرے پر اور میرے بعض مخلصوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اس لئے اپنی موت سے ڈرتے رہے کہ میں اور میرے بعض دوست ان کے قتل کرنے کیلئے مستعد تھے اور گویا انہوں نے کئی دفعہ ہر چھیوں اور تلواروں کے ساتھ حملہ کرتے بھی دیکھا تو اس صورت میں اگر وہ اپنے بے جا الزاموں کو ثابت نہ کریں تو کم سے کم وہ اس جرم کے مرتکب ہیں جس کی تشریح دفعہ ۵۰۰ تعزیرات میں درج ہے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ کبھی میرے پر ڈا کو یا خونی ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا