انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 581

انوارالاسلام — Page 101

روحانی خزائن جلد ۹ 1+1 انوار الاسلام یہ طمع خام دل میں لاتا ہے کہ میں بغیر اپنی بریت ظاہر کرنے کے یوں ہی چھوٹ جاؤں گا اسی طرح آتھم صاحب اپنی سادہ لوحی سے بار بار انجیل پیش کرتے ہیں اور اس الزام سے بری ہونے کا ان کو ذرہ فکر نہیں جو خود ان کے اقرار اور کردار سے ان پر ثابت ہو چکا ہے انہیں اس پیشگوئی سے پہلے جو ان کی نسبت کی گئی خوب معلوم تھا کہ احمد بیگ کی نسبت جو موت کی پیشگوئی کی گئی تھی جس کو ایڈیٹر نورافشاں نے چھاپ بھی دیا تھا اور جس کے بہت سے اشتہار بھی شائع ہو چکے تھے وہ کیسی صفائی سے پوری ہوئی ان کو خوب یاد ہوگا کہ انہیں ایام انعقاد مباحثہ میں اس پیشگوئی کا پورا ہونا بذریعہ ایک خط کے ان پر ظاہر کر دیا گیا تھا پس اسی سبب سے اس پیشگوئی کا غم ان کے دل پر بہت ہی غالب ہوا کیونکہ وہ نمونہ کے طور پر ایک پیشگوئی کا پورا ہونا ملاحظہ کر چکے تھے مگر میری قاتلانہ سیرت کی نسبت تو ان کے پاس کوئی نمونہ اور کوئی ثبوت نہ تھا کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تھا کہ میں جس کی نسبت موت کی پیشگوئی کرتا ہوں اس کو خود قتل کر دیتا ہوں ۔ پھر کیا کسی عقلمند کا قیاس اس بات کو باور رکھ سکتا ہے کہ جس بات کا ان کے پاس کھلا کھلا نمونہ تھا بلکہ عیسائی پر چہ بھی اس کا گواہ تھا اس تجربہ کردہ اور آزمودہ بات کا تو کچھ بھی خوف ان کے دل پر طاری نہ ہوا مگر قتل کرنے کا خوف دل پر طاری ہو گیا جس کی تصدیق کے لئے کوئی نمونہ ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ شبہ کرنے کی کوئی وجہ تھی۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میں نے کوئی ظالمانہ حرکت کی یا ادنی زدوکوب کا استغاثہ کبھی میرے پر دائر ہوا۔ پس جبکہ میرے سابقہ اعمال کسی نوٹ: وہ فلاسفر جن کا قول ہے کہ خدا رحم ہے اور خدا محبت ہے وہ بھی اس مقام میں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک انسان اگر ایک وقت میں نہایت سرکشی اور ظلم اور بے ایمانی اور بے باکی کی حالت میں ہو اور دوسرے وقت میں وہی انسان نہایت خوف اور تضرع اور رجوع کی حالت میں ہو تو ان دونوں مختلف حالتوں کا ایک ہی نتیجہ ہرگز نہیں ہو سکتا پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ حکم سزا کی پیشگوئی