انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 581

انوارالاسلام — Page 76

روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام عذاب دنیوی سے رہائی پانے کے لئے مفید ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اس بارہ میں بار بار مثالیں پیش کی ہیں اور بار ہا فرمایا ہے کہ ہم نے خوف اور تضرع کے وقت کفار کو عذاب سے نجات دے دی حالانکہ ہم جانتے تھے کہ وہ پھر کفر کی طرف عود کر یں گے پس اسی قرآنی اصول کے موافق آتھم صاحب شدید خوف میں مبتلا ہو کر کچھ دنوں کے لئے موت سے نجات پاگئے کیونکہ انہوں نے اس وقت عظمت اور صداقت اسلامی کو قبول کیا اور رد نہ کیا جیسا کہ علاوہ ہمارے الہام کے ان کا پریشان حال ان کی اس اندرونی حالت پر گواہ رہا اور اگر یہ باتیں صحیح نہیں ہیں اور اسلام کا خدا ان کے نزدیک سچا خدا نہیں تو قسم کھانے سے کیوں وہ بھاگتے ہیں اور کون سا پہاڑان پر گرے گا جو انہیں کچل ڈالے گا کیا وہ تجربہ نہیں کر چکے جو ہم جھوٹے ہیں پس جھوٹوں کے مقابل پر تو پہلے سے زیادہ دلیری کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی جھوٹے اور ان کا مذہب جھوٹا اور ان کی ساری باتیں جھوٹی ہیں اور اس پر یہی دلیل کافی ہے کہ جیسا کہ جھوٹے بزدل اور ہراساں ہوتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اپنے جھوٹ کی شامت سے سچ سچ مر ہی نہ جائیں یہی حال ان کا ہو رہا ہے اگر آتھم صاحب پندرہ مہینہ کے تجربہ سے مجھے کا ذب معلوم کر لیتے تو ان سے زیادہ میرے مقابل پر اور کوئی بھی دیر نہ ہوتا اور وہ قسم کھانے کے لئے مستعد ہو کر اس طرح میدان میں دوڑ کر آتے کہ جس طرح چڑیا کے شکار کی طرف باز دوڑتا ہے۔ مطالبہ قسم پر ان کو باغ باغ ہو جانا چاہیے تھا کہ اب جھوٹا دشمن قابو میں آ گیا مگر یہ کیا حاشيه: بعض مخالف مولوی نام کے مسلمان اور ان کے چیلے کہتے ہیں کہ جب کہ ایک مرتبہ عیسائیوں کی فتح ہو چکی تو پھر بار بار آتھم صاحب کا مقابلہ پر آنا انصافاً اُن پر واجب نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بے ایمانو ، نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو، اسلام کے دشمنو کیا پیشگوئی کے دو پہلو نہیں تھے پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرے پہلور جوع الی الحق کے احتمال کو اپنے افعال اور اپنے اقوال سے آپ قوی نہیں کیا۔ کیا وہ نہیں ڈرتے رہے کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا اقرار نہیں کیا پھر اگر وہ ڈرانسانی تلوار سے تھا نہ آسمانی تلوار سے تو اس شبہ کے مٹانے کے لئے کیوں قسم نہیں کھاتے پھر جبکہ اس طرف سے ہزار ہا روپیہ کے انعام کا وعدہ نقد کی طرح