انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 581

انوارالاسلام — Page 75

روحانی خزائن جلد ۹ ۷۵ انوار الاسلام سے مل کر اور دجالی ہوا کے لگنے سے دل سخت ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دیا پس ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک سخت دل اور دنیا پرست آدمی ایک ایسے مقدمہ میں پھنس جائے جس سے اس کو جان کا اندیشہ یا دائم الحبس ہونے کا خوف ہو تب وہ دل میں خدا تعالیٰ کو پکارتا رہے اور اپنی بدا فعالیوں سے باز رہے اور پھر جب رہائی پا جائے تو اس رہائی کو بخت اور اتفاق پر حمل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسانوں کو بھلا دیوے۔ قرآن کو کھول کر دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے کہ جو فرعونی صفت کا کوئی شعبہ اپنے اندر رکھتے ہیں کس قدر مثالیں دی ہیں چنانچہ مجملہ ان کے ایک کشتی کی بھی مثال ہے جب غرق ہونے لگی۔ پس اب آتھم صاحب اپنی دہریت پر ناز نہ کریں ذرہ قسم کھاویں پھر عنقریب دیکھیں گے کہ خدا ہے اور وہی خدا ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے نہ وہ کہ کر وڑ ہا اور بے شمار برسوں کے بعد مریم عاجزہ کے پیٹ سے نکلا اور پھر حباب کی طرح نا پدید ہو گیا۔ (۳) اعتراض سوم ۔ یہ ہے کہ یہا کثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی پنڈت پاہندے یار مال یا جفری کی پیشگوئی پر بھی جب کسی کی موت کی نسبت وہ بیان کرے تو ضرور بوجہ بشریت اس پیشگوئی کا خوف اور دہشت دل میں پیدا ہو جاتا ہے پھر اگر آتھم صاحب کے دل پر بھی اسلامی پیشگوئی کی دہشت طاری ہوئی ہو تو کیوں اس خوف کو بھی بشریت کی طرف منسوب نہ کیا جاوے الجواب بشر تو بشریت سے بھی منفک نہیں ہوتا لیکن جب بقول آپ کے اسلامی پیشگوئی کی عظمت اور صداقت نے آتھم صاحب کے دل پر اثر کیا اور ان کو ایک شدید خوف میں ڈال دیا تو بموجب تصریح قرآن کریم کے یہ بھی ایک رجوع کی قسم ہے کیونکہ اسلامی پیشگوئی کی تصدیق در حقیقت اسلام کی تصدیق ہے مثلا منجم کی پیشگوئی سے وہ شخص ڈرتا ہے جو نجوم کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور مال کی پیشگوئی سے وہی (۵) شخص خائف ہوتا ہے جو مل کو کچھ حقیقت خیال کرتا ہے اسی طرح اسلامی پیشگوئی سے وہی شخص ہراساں اور لرزاں ہوتا ہے جس کا دل اس وقت اسلام کا مذب نہیں بلکہ مصدق ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس قدر اسلام کی عظمت اور صداقت کو مان لینا اگر چہ نجات اخروی کیلئے مفید نہیں مگر