انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 581

انوارالاسلام — Page 77

روحانی خزائن جلد ۹۔ LL انوار الاسلام آفت پڑی کیوں اب تجربہ کے بعد مقابل پر نہیں آتے یہی سبب ہے کہ انہیں میرے الہام کی حقیقت معلوم ہے دوسرے احمق عیسائی اور مسلمان نہیں جانتے مگر وہ خوب جانتے ہیں۔ ناظرین! کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ میدان میں قسم کھانے کے لئے آجائیں گے ہرگز نہیں آئیں گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ کبھی جھوٹے بھی ایسی بہادری دکھلاتے ہیں جو ایمانی قوت پر مبنی ہو ان کے تو ڈر ڈر کے دست نکلتے رہے نفشی پر غشی طاری ہوتی رہی سوخدا نے جو سزا دینے میں دھیما اور رحم میں سب سے بڑھ کر ہے اپنی الہامی شرط کے موافق ان سے معاملہ کیا اب چڑیا اپنے پنجرہ سے نکلی ہوئی پھر کیونکر اسی پنجرہ میں داخل ہو جائے۔ (1) پیارے ناظرین! کیا تم ہماری تحریروں کو غور سے نہیں دیکھتے کیا سچائی کی شوکت تمہیں ان کے اندر معلوم نہیں ہوتی کیا نور فراست تمہارا گواہی نہیں دیتا کہ یہ ایمانی قوت اور شجاعت اور سیاستقلال دروغگو سے کبھی ظاہر نہیں ہو سکتا کیا میں پاگل ہوگیا یا میں دیوانہ ہوں کہ اگر قطعی طور پر مجھے علم نہیں دیا گیا تو یوں ہی تین ہزار روپیہ بر بادکرنے کو تیار ہو گیا ہوں ۔ ذرہ سو چو اور اپنے صحیح وجدان سے کام لواور یہ کہنا کہ کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثر عبد اللہ آتھم پر ہوا ہو کس قدر صداقت کا خون کرنا ہے اگر اثر نہیں تھا تو کیوں آتھم صاحب چوروں کی طرح بھاگتے پھرے اور کیوں اپنی سچائی کی بنا پر اب قسم کھانے کے لئے میدان میں نہیں آتے خط پر خط رجسٹری کرا کر بھیجے گئے وہ مردے کی طرح بولتے نہیں۔ (۴) چوتھا اعتراض ۔ یہ ہے کہ ایک صاحب اپنے اشتہار میں مجھ کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ تم نے مباحثہ میں آتھم صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تم عمداً حق کو چھپا رہے ہو پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس وقت بھی بقول تمہارے اسلام کو حق جانتے تھے پس پیشگوئی کی میعاد میں کون سی نئی بات ان سے ظہور میں آئی الجواب جاننا چاہیے بقیه حاشیه : پا کر پھر بھی قسم سے انکار اور گریز ہے تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کیا تمہاری ایسی تیسی سے۔ منہ