انوارالاسلام — Page 74
روحانی خزائن جلد ۹ ۷۴ انوار الاسلام طرف ایک ذرہ رجوع نہیں کیا اور نہ اسلامی صداقت اور عظمت نے میرے دل پر کوئی ہولناک اثر ڈالا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی روحانی ہیبت نے ایک ذرہ بھی میرے دل کو پکڑا بلکہ میں مسیح کی الوہیت اور اہنیت اور کفارہ پر پورا اور کامل یقین رکھتا رہا اور اگر میں خلاف واقعہ کہتا ہوں اور حقیقت کو چھپاتا ہوں تو اسے قادر خدا مجھے ایک سال کے اندر ایسے موت کے عذاب سے نابود کر جو جھوٹوں پر نازل ہونا چاہیے یہ تم ہے جس کا ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں اور جس کے لئے ہم اشتہار شائع کرتے کرتے آج تین ہزار روپیہ تک پہنچے ہیں۔ ہم قسمیہ کہتے ہیں کہ ہم باضابطہ تحریر لے کر یعنی حسب شرائط اشتہار نم نمبر ۱۸۹۸ء تمسک لکھوا کر یہ تین ہزار روپیہ قسم کھانے سے پہلے دے دیں گے اور بعد میں قسم لیں گے۔ پھر کیوں آتھم صاحب پر اس بات کے سننے سے خشی پر غشی طاری ہو رہی ہے کیا اب وہ مصنوعی خدا فوت ہو گیا جس نے پہلے نجات دی تھی یا اس سے اب منجی ہونے کے اختیار چھین لئے گئے ہیں ۔ ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا کہ کیسی شوخی اور دجالیت ہے کہ یوں تو آتھم صاحب بحیثیت ایک مدعا علیہ کے بہت باتیں کریں یہاں تک کہ اسلام کو جھوٹا نہ ہب بھی قرار دے دیں اور یخنی کی باتیں منہ سے نکالیں مگر جب بحیثیت شاہد ٹھہرا کر بطرز مذکورہ بالا ان سے قسم لینے کا مطالبہ ہو تو ایسی خاموشی کے دریا میں غرق ہو جائیں کہ گویا وہ دنیا میں ہی نہیں رہے۔ کیا اے ناظرین ان کے اس طرز طریق سے ثابت نہیں ہوتا کہ ضرور دال میں کالا ہے۔ غضب کی بات ہے کہ ایک ہزار روپیہ دینا کیا اور رجسٹری کر کے اشتہار بھیجا مگر وہ چپ رہے پھر دو ہزار روپیہ دینا کیا اور رجسٹری کر کے اشتہار بھیجا پھر بھی ان کی طرف سے (۴) کوئی آواز نہیں آئی اور دونوں میعادیں گذر گئیں اب یہ تین ہزار روپیہ کا اشتہار جاری کیا جاتا ہے کیا کسی کو امید ہے کہ اب وہ قسم کھانے کیلئے میدان میں آئیں گے ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔ وہ تو جھوٹ کی موت سے مرگئے اب قبر سے کیونکر نکلیں۔ ان کو تو یہ باتیں سن کر غش آتا ہے کیونکہ وہ جھوٹے ہیں اور ایک عاجز اور خا کی انسان کو خدا بنا کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ میعاد کی زندان سے نکلے بولتے بھی نہیں تھے اور سرنگوں رہتے تھے پھر رفتہ رفتہ شیطانی سوسائٹی