انجام آتھم — Page 48
روحانی خزائن جلدا ۴۸ رساله دعوت قوم تحقیق کے وہ شخص نہایت درجہ کور باطن ہے کہ جواب بھی حال کے پادریوں کو دجال اکبر نہیں سمجھتا۔ ایک اور بات ہے جس سے ہمارے نادان مولوی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کے خود قائل ہیں کہ دجال معہود کا بجز حرمین کے تمام زمین پر تسلط ہو جائے گا۔ سواگر دقبال سے مراد کوئی اور رکھا جائے تو یہ حدیث قرآن کی صریح پیشگوئی سے مخالف ہو جائے گی۔ کیونکہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ قیامت تک زمین پر غلبہ اور تسلط دو قوموں میں سے ایک قوم کا ہوتا رہے گا۔ یا اہلِ اسلام کا یا انصاری کا ۔ پس قرآن کے رو سے ایسے دجال کو جو اپنی خدائی کا دعوئی لے کر آئے گا۔ زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں اور قرآن اس کے وجود کو روکتا ہے۔ ہاں استعارہ کے طور پر نصاری کا دعوی خدائی ثابت ہے کیونکہ چاہتے ہیں کہ گلوں کے زور سے تمام زمین و آسمان کو اپنے قابو میں کر لیں یہاں تک کہ مینہ برسانے کی قدرت بھی حاصل ہو جائے۔ پس اس طرح پر وہ خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ غرض یہ وہ امور ہیں جن کو حال کے مولوی نہیں سمجھتے اور اہل اسلام میں انہوں نے بڑا بھاری فتنہ اور تفرقہ ڈال رکھا ہے اور نہایت بیہودہ اور رکیک تاویلات سے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے منہ پھیر رہے ہیں۔ دعوی کرتے تھے کہ ہم اہل حدیث ہیں مگر اب تو انہوں نے قرآن کو بھی چھوڑا اور حدیث کو بھی۔ سو جبکہ میں نے دیکھا کہ قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں عظمت نہیں اور جلیل الشان اکا بر ائمہ کی شہادت بھی جیسا کہ امام بخاری اور ابن حزم اور امام مالک کی شہادت جو حضرت عیسی کے فوت ہو جانے کی نسبت بار بار لکھی گئی ہے ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں سو مجھ کو اس پہلو سے بکلی نومیدی ہوئی کہ وہ منقولی بحث و مباحثہ کے ذریعہ سے ہدایت پاسکیں پس خدا تعالی نے میرے دل میں ڈالا کہ میں دوسرا پہلو اختیار کروں جو اصل بنیاد میرے دعوی کی ہے یعنی اپنے سچے علم ہونے کا ثبوت کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے سچا ملہم سمجھتے اور میرے الہامات کو میرا ہی افتر ایا شیطانی وساوس خیال نہ کرتے تو اس قدرست اور شتم اور ہنسی اور ٹھٹھا اور تکفیر اور تہذیب جے کے ساتھ پیش نہ آتے بلکہ اپنے بہت سے ظنون حاشیہ ۔ منقولی بحث مباحثہ کی کتابیں جو میری طرف سے چھپی ہیں جن میں ثابت کیا گیا ہے جو درحقیقت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوبارہ آنا ان کا بطور بروز مراد ہے نہ بطور حقیقت وہ یہ ہیں ۔ فتح اسلام ۔ توضیح مرام - ازالہ اوہام ۔ اتمام الحجة تحفہ بغداد - حمامۃ البشری۔ نورالحق دو حصہ۔ کرامات الصادقین - سرالخلافہ۔ آئینہ کمالات اسلام۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے بد تہذیب “ ہونا چاہیے۔(ناشر) ۲۸