انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 448

انجام آتھم — Page 47

روحانی خزائن جلدا ۴۷ رساله دعوت قوم طرح طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل ۴۷) سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔ پس جس گروہ کو خدا نے اپنے پاک کلام میں دقبال اکبر ٹھہرایا ہے ہمیں نہیں چاہئے کہ اس کے سوا کسی اور کا نام دجال اکبر رکھیں۔ نہایت ظلم ہوگا کہ اس کو چھوڑ کر کوئی اور دقبال اکبر تلاش کیا جائے۔ یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دجال ہے جو ان سے بڑا ہے کیونکہ جبکہ خدا نے اپنی پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجال بیان فرمایا ہے تو نہایت بے ایمانی ہوگی کہ خدا کی کلام کی مخالفت کر کے کسی اور کو بڑا دنبال ٹھہرایا جائے ۔ اگر کسی ایسے دجال کا کسی وقت وجود ہو سکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اس کا نام دقبال اکبر رکھتا نہ ان کا نام ۔ پھر یہ نشان دجال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارہ سے نکلتا ہے کہ یكسر الصليب صاف بتلارہا ہے کہ اس دجبال اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا اٹھہرائے گا اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔ یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا نظاہر ہو گیا ہے جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔ کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجبال اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتلائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہوگا ۔ اور وہ دجال اکبر کو قتل کرے گا ۔ ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جبکہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل درقبال اکبر ہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا د جل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجال اکبر نہیں ہے اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے وہ قرآن کا مکذب ہے۔ اور نیز جبکہ لغت کی رو سے بھی دجال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے۔ اور حدیث کی رو سے نشان دجال اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو با وجود اس کھلی کھلی