انجام آتھم — Page 49
روحانی خزائن جلدا ۴۹ رساله دعوت قوم فاسدہ کا حسن ظن کے غلبہ سے آپ فیصلہ کر لیتے کیونکہ کسی کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے یقین کے ۴۹ بعد وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آتیں کہ جو اس حالت میں پیش آتی ہیں کہ انسان کے دل پر اس کے کا ذب ہونے کا خیال غالب ہوتا ہے۔ یہ بیچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے میری سچائی کے سمجھنے کے لئے بہت سے قرائن واضح ان کو عطا کئے تھے۔ میرا دعویٰ صدی کے سر پر تھا۔ میرے دعوے کے وقت میں خسوف کسوف ماہ رمضان میں ہوا تھا۔ میرے دعوئی الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی ۔ میری پیشگوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا۔ مجھے کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے اور اس قدر میری کلام کو معرفت کے پاک اسرار سے بھر دیا کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی طرف سے پورا تائید یافتہ نہ ہو اس کو یہ نعمت نہیں دی جاتی لیکن مخالف مولویوں نے ان باتوں میں سے کسی بات پر غور نہیں کی۔ سواب چونکہ تکذیب اور تکفیر ان کی انتہا تک پہنچ گئی اس لئے وقت آگیا کہ خدائے قادر اور علیم اور خبیر کے ہاتھ سے جھوٹے اور بچے میں فرق کیا جائے۔ ہمارے مخالف مولوی اس بات کو جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایسے شخص سے کس قدر بیزاری ظاہر کی ہے جو خدائے تعالی پر افترا باندھے یہاں تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ اگر وہ بعض قول میرے پر افترا کرتا تو میں فی الفور پکڑ لیتا اور رگ جان کاٹ دیتا۔ غرض خدا تعالیٰ پر افترا کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں الہام مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ایسا سخت گناہ ہے کہ اس کی سزا میں صرف جہنم کی ہی وعید نہیں بلکہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔ اگر ان مولویوں کا دل تقویٰ کے رنگ سے کچھ بھی رنگین ہوتا اور خدا تعالیٰ کی عادتوں اور سنتوں سے ایک ذرہ بھی واقف ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک مفتری کا اس قدر در از عرصہ تک افترا میں مشغول رہنا بلکہ روز بروز اس میں ترقی کرنا اور خدا تعالیٰ کا اس کے افتر اپر اس کو نہ پکڑنا بلکہ لوگوں میں اس کو عزت دینا دلوں میں اس کی قبولیت ڈالنا اور اس کی زبان کو چشمہ حقائق و معارف بنانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ جب سے خدائے تعالی نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہر گز نہیں پائی جاتی۔ افسوس کہ کیوں یہ منافق مولوی خدا تعالیٰ کے احکام