انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 448

انجام آتھم — Page 334

۳۳۴ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ۵۰ ہندو مسلمان عیسائی جانتے ہیں اور اخباروں اور جنتریوں میں مندرج ہے کہ وہ اس طرح پر واقع ہوا کہ چاند گرہن تیر کا رمضان کو ہوا اور سورج گرہن اٹھا ئیں رمضان کو ۔ جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ نور الحق میں اسی وقت چھاپ دیا تھا۔ مگر تم نے حق کو چھپانے کیلئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا کہ اپنے اس اشتہار میں جس کا عنوان صيانة الانـاس عـن شر الوسواس الخناس ہے چاند گرہن کی تاریخ بجائے تیر کا رمضان کے چونکہ رمضان لکھ دی اور سورج گرہن کی تاریخ بجائے اٹھائیں رمضان کے انتیسش رمضان لکھ دی۔ پس اے بدذات خبیث دشمن اللہ رسول کے تو نے یہ یہودیانہ تحریف اسی لئے کی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا پر مخفی رہے۔ جابر اور عمرو بن شمر کا جھوٹ تو ہرگز ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ بیچ ثابت ہوا۔ مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ جابر اور عمرو کا سچا ہونا کسوف خسوف سے ثابت ہو گیا۔ اور رؤیت نے روایت کے ضعف کو دور کر دیا۔ اب جو شخص ان بزرگوں کو جھوٹا کہے جن کے طفیل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ دنیا پر کھلا وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔ اور پھر یہ ایک وسوسہ عبدالحق غزنوی نے پیش کیا ہے کہ ”خسوف کسوف کے بارے میں جو اقوال ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کے بعد مہدی کا ظہور ہو مگر میرزا قادیانی کے دعوئی اور خروج کا یہ چوتھا سال ہے۔ لیکن یادر ہے کہ یہ بھی اس نابکار کی تزویر اور تلی ہے ۔ پیشگوئی کے صاف لفظ یہ ہیں کہ ان لمهدينا آیتین یعنی ہمارے مہدی کے مصدق موید دو نشان ہیں۔ پس یہ کلام جو انتفاع کے لئے آیا ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ خسوف کسوف سے پہلے مہدی کا ظہور ضروری ہے اور نشان کسوف خسوف اس کے خروج کے بعد ہوا ہے اور اس کی تصدیق کے لئے ظاہر کیا گیا ہے اور نشانوں کے ظاہر کرنے کے لئے سنت اللہ بھی یہی ہے کہ وہ بچے مدعی کے دعوی کی تصدیق کے لئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ایسے وقت میں ہوتے ہیں جبکہ اس مدعی کی تکذیب سرگرمی سے کی جائے۔ اور جو قبل از وقت بعض علامات ظاہر ہوتی ہیں ان کا نام نشان نہیں بلکہ ان کا نام ارباص ہے۔ آیت جس کا ترجمہ نشان ہے اصل میں ایسواء سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں پناہ دینا۔ سو آیت کے لفظ کا عین محل وہ ہے جب ایک مامور من اللہ کی تکذیب کی جائے اس کو جھوٹا ٹھہرایا جائے ۔ تب اس وقت اس بیکس کو خدا تعالی اپنی پناہ میں لانے کیلئے جو کچھ خارق عادت امر ظاہر کرتا ہے اس امر کا نام آیت یعنی نشان ہے۔ اس تحقیقات سے ثابت ہے کہ نشان کے لئے ضروری ہے کہ تکذیب کے بعد ظاہر ہو گویا اس کے بچے ہونے پر ایک نشانی لگادی گئی۔ لیکن یہ نشانی اس وقت نفع دے گی کہ جب تکذیب کے وقت ظاہر ہو اور نبل وجود مدعی جو کچھ ظاہر ہو وہ امر مشتبہ ہوتا ہے۔ اور ہر ایک اس کو اپنی طرف نسبت کر سکتا ہے۔ اب اس کا کون فیصلہ کرے کہ اُس کا مصداق فلاں شخص ہے دوسرا نہیں۔ لیکن اگر نشان کے وقت میں دو مدعی ہوں